مَحَبَّت وعَظَمَت قائِم ودائِم ہے ، لوگ جَوق دَرجَوق آپ کے مَزارِپُراَنوارپرحاضِری کی سَعادَت پاتے اوراپنی خالی جھولیاں مُرادوں سے بھرتے ہیں ۔
آئیے !اِس عظیم ہستی کی شان میں ، اَمِیْرِاہلسنّتدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہکی لکھی ہوئی منقبت کے کچھ اشعارسُنتے ہیں :
ہو مدینے کا ٹِکٹ مجھ کو عطا داتا پیا
آپ کو خواجہ پِیا کا واسِطہ داتا پیا
دو نہ دو مرضی تمہاری تم مدینے کا ٹِکٹ
میں پکارے جاؤں گا داتا پِیا داتا پیا
دولَتِ دنیا کا سائل بن کے میں آیا نہیں
مجھ کو دیوانہ مدینے کا بنا داتا پیا
کاش میں رویا کروں عِشقِ رسولِ پاک میں
سوز دو ایسا پئے احمد رضا داتا پیا
کاش! پھر لاہور میں نیکی کی دعوت عام ہو
فیض کا دریا بہادو سرورا داتا پیا
مجھ کو داتا تاجدارانِ جہاں سے کیا غَرَض
میں پکارے جاؤں گا داتا پِیا داتا پیا
جھو لیاں بھر بھر کے لے جا تے ہیں منگتے رات دن
مجھ کو دیوانہ مدینے کا بنا داتا پیا(1)
________________________________
1 - وسائل بخشش مرمم ، ص۵۳۳