وآلام کے اِمتِحان میں ڈالتاہے اورکامیابی کی صُورَت میں بُلَندیِ درَجات اوربے شُمار دُنْیَوِی واُخْرَوِی اِنْعامات کے ساتھ اَیسوں کویہ مُژدَۂ جاں فِزابھی سُناتا ہے : ’’ اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳) ترجمۂ کنزالایمان : بے شکاللہصابِروں کے ساتھ ہے ۔ ( پ۲ ، البقرة : ۱۵۳) ‘‘ یادرکھئے !ذاتِ باری تعالیٰ کاقُرب وہ عَظیم نِعمَت ہے جس کے حُصُول کی خاطراَنبیائے کِرام اور اَولِیائے عُظام عَلَیْہِمُ السَّلَامنے ایسی ایسی تکالیف پرصَبْر کِیا جن کے تَصوُّرسے ہی لَرزَہ طارِی ہوجاتا ہے ۔ ہمیں بھی یہ نِیَّت کرنی چاہیے کہ اگرکوئی مصیبت آئی ، کسی نے ہمارا دل دُکھایا یابَدسُلوکی سے پیش آیاتو اِینٹ کا جَواب پَتھر سے دینے کے بَجائے صَبْرسے کام لیں گے ۔ اِنْ شَآءَاللہعَزَّ وَجَلَّ
مصائب وآلام پرصبرورضا کی فضیلت :
تاجدارِمدینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اِرْشادفرمایاکہاللہعَزَّ وَجَلَّاِرْشادفرماتاہے : جب میں اپنے کسی بَندے کے بَدَن ، اولادیا مال میں کوئی مصیبت وتکلیف ڈالوں اور وہ صبر ورضاکے ساتھ اُسے قبول کرے تواب مُجھے حَیا آتی ہے کہ میں قِیامت کے دِن اُس کے لیے مِیزان قائِم کروں یا اُس کا نامَۂ اَعمال کھولوں ۔ (1)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!غورکیجئے کہ دُنیامیں بَظاہِرکَڑوے مَحسُوس ہونے والے صَبْرکے چَنْد گُھونْٹ آخِرت میں کیسی مِٹھاس کا سَبَب بنیں گے ۔ حضرت سیِّدُنا داتا گَنْج بَخْش علی ہجویریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِینے اپنے ساتھ پیش آنے والی بَدسُلوکی پرکَمال صَبْرکا مُظاہَرہ کِیاتو اللہعَزَّ وَجَلَّنے آپ کووہ عَظِیم مَقامِ وِلایَت عَطافرمایاکہ آپ کواِس دُنیاسے پَردَہ کیے کم و بیش973سال کا عَرْصہ بِیت چُکاہے مگرآج بھی کروڑوں مُسَلمانوں کے دِلوں میں آپ کی
________________________________
1 - نوادر الاصول ، الاصل الخامس والثمانون والمائة ، ۲ / ۷۰۰ ، حدیث : ۹۶۳