نَظَر اِس مَفْلُوْکُ الْحال( خستہ حال) شَخْص پرپڑی ، تواُن میں سے ایک نے سَخْت لَہجے میں سُوال کِیا : ”تم کون ہو؟“اُس نے نَرْمی سے جواب دیا : مُسافِر ہوں ، یہاں رات بَسَر کرنے کے لیے ٹھہرنا چاہتا ہوں ۔ وہ سب قَہقَہہ لگا کر ہنس پڑے اوراُسے حَقارَت سے دیکھتے ہوئے کہا : یہ ہم میں سے نہیں ہے ۔ مُسافِر اُن کی یہ بات سُن کر خُوشی سے کِھل اُٹھا اورجواب میں کہا : واقِعی میں تم میں سے نہیں ہوں ۔ رات ہوئی تواُن میں سے ایک نے اُس کے آگے سُوکھی روٹی لا کر رکھ دی اورخوداپنے دوستوں کی اُس مَحفِل میں شریک ہوگیا ، جس میں وہ اَنواع واَقسام کی عُمدہ اورلَذِیذغِذاؤ ں سے لُطف اندوزہونے کے ساتھ ساتھ ایک دُوسرے سے ہَنسی مَذاق میں بھی مَشغُول تھے ۔ وہ مُسافِر کوسوکھی روٹی کھاتادیکھ کرہنستے ، خربوزے کھاکرچھلکے اُس پرپھینکتے اورطَعْن وتَشْنِیع کے تِیربَرساتے رہے یعنی بُرابھلاکہتے رہے مگروہ صابِر وشاکِر نَوجوان خُوش دِلی سے اُن کے سِتم برداشت کرتارہا اور کوئی جوابی کاروائی نہ کی ۔ (1)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
برائی کو بھلائی سے ٹالنے والے :
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!بَیان کردہ واقعے میں اپنے ساتھ نارَواوناپسندیدہ سُلوک پرصَبْر کرنے والے وہ بُزرگاللہعَزَّ وَجَلَّکے بَرگُزِیدہ وَلی ، حضورداتا گَنْج بَخْش عَلی ہَجْویری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہتھے ۔ یقیناً اللہعَزَّ وَجَلَّکے مَحبُوب اوربَرگُزِیدہ بندوں کا یہ مَعمُول ہوتاہے کہ وہ آنے والی ہَرمُصِیبَت پرصَبْروشُکْرسے کام لیتے ہیں ۔ اللہعَزَّ وَجَلَّجس طرح اپنے بندوں پربے شُمارنعمتیں نِچھاوَرفرماکراِحسانِ عَظیم فرماتاہے اسی طرح بَعْض اَوقات اُنہیں مَصائِب
________________________________
1 - ماخوذازکشف المحجوب ، باب الملامة ، ص۶۶