اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط
اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط
اَلصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامُ عَلَیْكَ یَا رَسُولَ اللہ وَعَلٰی اٰلِكَ وَ اَصْحٰبِكَ یَا حَبِیْبَ اللہ
اَلصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامُ عَلَیْكَ یَا نَبِیَّ اللہ وَعَلٰی اٰلِكَ وَ اَصْحٰبِكَ یَا نُوْرَ اللہ
درود شریف کی فضیلت :
فرمانِ مُصْطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہے : جس نے مجھ پرصُبح وشام10 ، 10باردُرُود ِ پاک پڑھااُسے قِیامَت کے دِن میری شَفاعَت ملے گی ۔ (1)
سب نے صَفِ مَحشر میں لَلکار دِیا ہم کو
اے بے کَسوں کے آقا اب تیری دُہائی ہے (2)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
صابر و شاکر نَوجوان :
شام کا وَقْت تھا ، رات کی تاریکی آہِسْتہ آہِسْتہ ہرشَے کو اپنی لپیٹ میں لے رہی تھی ، خُراسان میں ایک بے سازوسامان مسافرہاتھ میں عصا( لاٹھی) لئے ہرچیزسے بے نیاز ، بوسیدہ ، موٹا اور کُھردرا ٹاٹ کا لباس پہنے چلا جارہا تھا ، جب آبادی کے قریب پہنچا تو رات گُزارنے کے اِرادے سے ایک ایسے مَقام پرٹھہراجہاں بَظاہِردِین دارنَظَرآنے والے کچھ اَفْرادبھی مَوْجُودتھے ، جن کے چہرے خُوشْحالی وبے فِکری سے دَمَک رہے تھے ، جیسے ہی ان کی
________________________________
1 - مجمع الزوائد ، کتاب الاذکار ، ، باب ما یقول اذا اصبح وا ذا امسی ، ۱۰ / ۱۶۳ ، حدیث : ۱۷۰۲۲
2 - حدائق بخشش ، ص۱۹۲