Brailvi Books

بیاناتِ دعوتِ اسلامی
170 - 541
مِلے خاک میں اَہْلِ شاں کیسے کیسے   		مکیں ہو گئے لا مکاں کیسے کیسے
ہوئے نامْوَر بے نشاں کیسے کیسے 		زمیں کھا گئی نوجواں کیسے کیسے
جگہ جی لگانے کی دُنیا نہیں ہے 		یہ عبرت کی جا ہے تماشا نہیں ہے
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!		صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!جوانی میں شرعی اَحْکام اوراِطاعَتِ الٰہی کی بَجاآوری  میں سستی کرنے اور گُناہوں بھری زندگی سے توبہ میں تاخیر کرنے والے نوجوانوں کو خوابِ غَفْلت سے جگانے کے لئے امام غزالیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی یہ نصیحت کافی ہے ۔ عقلمند وہی ہے جو زِندگی کو غنیمت جانتے ہوئے گُناہوں سے توبہ کرلے اوراپنی باقی ماندہ زندگی  زِیادہ سے زِیادہ عبادتِ الٰہی میں بَسرکرے ، بِالْخُصُوص نوجوانوں کو توبہ میں ہرگز تاخیرنہیں کرنی چاہئے کیونکہ اللہعَزَّ  وَجَلَّکو نوجوان  کی توبہ  بہت پسند ہے ۔ چنانچہ
(1)…رسولِ بے مثالصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکافرمانِ عالیشان ہے : اِنَّاللہَ تَعَالٰی یُحِبُّ الشَّابَّ التَّائِبَیعنی بے شکاللہعَزَّ  وَجَلَّتوبہ کرنے والے نوجوان سے محبت فرماتا ہے ۔ (1) 
(2)…ایک جگہ ارشادفرمایا : مَا مِنْ  شَیۡءٍ اَحَبُّ اِلَی اللہِ مِنَ الشَّابِّ التَّائِبِیعنی اللہعَزَّ  وَجَلَّ کو توبہ کرنے والے نوجوان سے زِیادہ پسندیدہ کوئی نہیں ۔ (2) 
نوجوانوں کی اِصلاح اور دعوتِ اسلامی کا کردار :
	میٹھے میٹھے اِسلامی بھائیو!اِس پُرفِتَن دَورمیں قرآن و سُنَّت سے دُور ، جوانی کی مَسْتی میں مَخْمور ، حِرص وہَوَسِ دُنیاکے نَشے میں چُوراورنفس وشیطان کے ہاتھوں مجبورہوکر 



________________________________
1 -    المقاصد الحسنة ، ص۱۳۰ ، حدیث : ۲۴۱
2 -    مسند فردوس ، ۴ /  ۴۸ ، حدیث : ۶۱۵۳