بناتا ہے جو کہ اس کے اختیار میں نہیں ۔ ممکن ہے وہ”کل“تک زِنْدہ نہ رہے اوراگر باقی رہ بھی جائے تو جس طرح ”آج “گُناہ کونہیں چھوڑسکتاممکن ہے ”کل“بھی اس کے تَرْک پر قُدرت نہ پائے ۔ کاش! وہ جانتا کہ ”آج “ اس کی توبہ میں رُکاوٹ شَہْوَت کا غَلَبہ ہے اور شَہْوَت تو ”کل“بھی اس سے دُور نہ ہوگی بلکہ بڑھ جائے گی کیونکہ عادت کی وجہ سے یہ مزیدپختہ ہوجاتی ہے اور جس شَہْوَت کو اِنسان عادت کے ذریعے پختہ کرلیتا ہے وہ اس کی طرح نہیں جسے اس نے پختہ نہ کیا ۔ اسی سبب سے توبہ میں ٹال مٹول کرنے والے ہلاک ہوئے کیونکہ وہ دو ہم شکل چیزوں میں تو فرق سمجھتے ہیں لیکن یہ نہیں سوچتے کہ شہوات سے چھٹکاراپانامشکل ہے اوراس مُعاملے میں تمام ایام یکساں ہیں ۔ توبہ میں تاخیرکرنے والے کی مثال اس شخص کی سی ہے جسے ایک درخت کو اُکھاڑنا ہومگر جب وہ دیکھتا ہے کہ دَرَخْت مضبوط ہے اور اسے سخت مَشقّت کے بغیر نہیں اُکھاڑا جاسکتا تو کہتا ہے کہ”میں اسے ایک سال بعد اُکھاڑوں گا ۔ “ حالانکہ وہ جانتا ہے کہ درخت جب تک قائم رہتا ہے ، اس کی جَڑیں مضبوط سے مضبوط تر ہوتی جاتی ہیں اور خود اس ( توبہ میں تاخیر کرنے والے ) کی عُمر جُوں جُوں بڑھتی ہے یہ کمزور ہوتا جاتا ہے پس دُنیا میں اس سے بڑھ کر اَحمق کوئی نہیں کہ اس نے قوّت کے باوُجُود کمزور کا مُقابلہ نہ کیا اوراس بات کا منتظر رہاکہ جب یہ خود کمزورہوجائے گااورکمزورشے مضبوط ہوجائے گی تواس پرغَلَبہ پائے گا ۔ (1)
جہاں میں ہیں عبرت کے ہر سو نُمونے مگر تجھ کو اَندھا کیا رنگ و بُو نے
کبھی غور سے بھی یہ دیکھا ہے تُو نے جو آباد تھے وہ مَحل اب ہیں سُونے
جگہ جی لگانے کی دُنیا نہیں ہے یہ عبرت کی جا ہے تماشا نہیں ہے
________________________________
1 - احیاء العلوم ، کتاب التوبة ، الرکن الرابع فی دواء التوبة...الخ ، ۴ / ۷۲