Brailvi Books

بیاناتِ دعوتِ اسلامی
168 - 541
 کوئی گُناہ سَرزدہو جائے تو فوراً رَبّ تَعالیٰ کی بارگاہ میں سچی توبہ کیجئے ۔ اَفْسوس صَد افسوس! بعض نادان جوانی کے نَشے اورفانی دُنیا کے دھوکے میں مبُتلا ہوکر لمبی لمبی اُمیدیں باندھتے اور غَفْلت کی چادر تانے سوئے رہتے ، شرعی اَحکام کو پَسِ پُشت ڈال کر توبہ کے مُعاملے میں ٹال مٹول سے کام لیتے اورخُودکواس طرح  دِلاسے دیتے ہیں کہ”ابھی تو میرے کھیلنے کُودنے کے دن ہیں ۔ “ ، ”فُلاں کودیکھووہ تواتنابُوڑھاہوچکاہے مگرابھی تک زندہ ہے جبکہ میں توابھی تَنْدُرُست اورجوان ہوں ۔ “یُوں جھوٹی اور کھوکھلی اُمیدوں کے سہارے زِندہ رہتے ہیں ۔ پھر جیسے جیسے جوانی کا زَوال شروع ہوتاہے بُڑھاپا بھی اپنی جڑیں مَضبوط کرتا چلاجاتا ہے تب کہیں جا کر ایسوں کو ہوش آتاہے کہ اب تو مجھے توبہ کرکے خُود کو گُناہوں سے بچانے اوراللہعَزَّ  وَجَلَّ کی  خُوب خُوب عبادات بَجالانے کاپختہ اِرادہ کرنا چاہئے ۔ پھر اگرچہ بَسااوقات ہمت کرکے  نیکیاں کرنے میں کامیاب ہوبھی جاتے ہیں مگرجوانی کی بہاروں کو یادکرکے خُوب دِل جَلاتے اور اَشک بہاتے ہیں کہ ”اے کاش !میں اپنی جوانی کوعبادت و رِیاضت میں بسر کرلیتا  ۔ “مگر آہ! جوانی تو کسی گزرے ” کل“ کی طرح جاچکی اور اب پلٹ کرکبھی واپس نہیں آئے گی  ۔ 
توبہ میں تاخیر مت کیجئے :
حُجَّۃُ الْاِسْلَامحضرت سیِّدُناامام ابُوحامدمحمدبن محمدغزالیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ توبہ میں تاخیر کرنے والوں کو نصیحت کے مدنی پُھول دیتے ہوئے فرماتے ہیں : جہاں تک توبہ میں تاخیر اور ٹال مٹول کی بات ہے تو اس بات پر غور کرے کہ اَکْثر دَوزخی توبہ میں تاخیر کی وجہ  سے چِلّاتے ہوں گے کیونکہ ٹال مٹول کرنے والا اپنے مُعاملے کی بُنیاد آئندہ زندگی کو