شرح حدیث :
مشہورمُفَسِّرِقرآن ، حکیْم ُالا ُمَّت ، مفتی احمدیارخان نعیمیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : ’’ جوبُوڑھاآدمی بُڑھاپے کی وجہ سے زِیادہ عبادت نہ کرسکے ، مگرجوانی میں بڑی( خُوب) عبادتیں کرتارہاہوتواللہتعالیٰ اُسے مَعْذورقَراردے کراُس کے نامَۂ اَعمال میں وُہی جوانی کی عبادت لکھتاہے ۔ ‘‘ (1)
اِلٰہی ہوں بَہُت کمزور بندہ نہ دنیا میں نہ عُقبیٰ میں سزا ہو(2)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
بڑھاپے میں بھی جوانی :
حضرت سیِّدُناعلامہ عبْدُالرَّحمٰن اِبْنِ رَجَب حَنْبلیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہجوانی میں عبادت کرنے سے مُتَعَلِّق بہت پیاری بات فرماتے ہیں : جس نے اللہعَزَّ وَجَلَّکواس وَقْت یادرکھا جب وہ جوان اورتَندُرُسْت تھاتواللہعَزَّ وَجَلَّاُس کا اُس وَقْت خیال رکھے گاجب وہ بُوڑھا اور کمزور ہوجائے گااور اُسے بُڑھاپے میں بھی اچھی قوّتِ سَماعَت ، بَصارت ، طاقت اورذہانت عطا فرمائے گا ۔ حضرت سیِّدُناابُوالطَّیِّب طَبَریرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے 100سال سے زِیادہ عُمْر پائی ، آپ ذِہْنی وجسمانی لحاظ سے تَنْدُرُسْت اورتواناتھے ، کسی نے آپ سے صِحَّت کارازپُوچھاتو فرمایا : میں نے جوانی میں اپنی جسمانی صَلاحیتوں کوگُناہ سے محفوظ رکھااورآج جب میں بُوڑھا ہوگیاہوں تواللہعَزَّ وَجَلَّنے انہیں میرے لئے باقی رکھاہے ۔ اس کے بَرْعکس حضرت سیِّدُنا
________________________________
1 - مراٰۃالمناجیح ، ۷ / ۸۹
2 - وسائِلِ بخشش مرمم ، ص۳۱۶