Brailvi Books

بیاناتِ دعوتِ اسلامی
162 - 541
رَبّ عَزَّ  وَجَلَّنے مجھے وہ دو جنّتیں عطا فرمادی  ہیں ۔ (1) 
	سُبْحٰنَاللہ!دیکھاآپ نے کہ اس نوجوان نے خوفِ خداکے سبب اپنی ساری زِنْدگی گُناہوں سے بچتے ہوئے نیکیوں میں بسرکی لہٰذاجب اُسے شیطانی خیال کی ٹھیس پہنچی توخوفِ خداکی وجہ سے خبردار ہوگیا اورایک بڑے گناہ سے محفوظ رہاپس  مرنے کے بعد یہ عبادت اور خوف وخشیت اس کی بخشش ومَغْفرت  کاذریعے بن گئے اورجنَّت کی اَعْلیٰ  نعمتیں نصیب ہوئیں ۔ یادرکھئے !یہ حُسن وجوانی دولَتِ فانی ہے اوراس پر غُرور و تَکَبُّر حماقت و نادانی ہے ۔ 
ڈَھل جائے گی یہ جوانی جس پہ تجھ کو ناز ہے
تُو بجالے چاہے جتنا چار دن کا ساز ہے
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!		صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! تَنْدُرُستی وجَوانی پراِتْرانے اورشب وروزگُناہوں میں ضائع کرنے کے بجائے اِخْلاص واِسْتقامت کے ساتھ  عبادات کامعمول بنائے رکھئے ، ایسے میں اگربُڑھاپاآگیااورعبادت کی لگن بھی باقی رہی توصِحَّت وہِمَّت  نہ ہونے کے باوُجُوداِنْ شَآءَ اللہعَزَّ  وَجَلَّاِس لاچاری کے عالَم میں بھی جَوانی کی عبادتوں جیسا ثواب ملتا رہے گا ۔  چُنانچہ
مفت کاثواب : 
	حضرت سیِّدُنااَنَس بن مالِکرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں : جب  کوئی مسلمان اَرذلُ الْعُمْر ( سب سے ناقص عُمْر) کوپہنچ جائے کہ جاننے کے بعدکچھ نہ جانے اورنہ سمجھے تواللہعَزَّ  وَجَلَّ اُس کے لیے اُسی جیسی نیکیاں لکھتارہتاہے جووہ اپنی صحّت کے زمانے میں کیاکرتا تھا ۔ (2) 



________________________________
1 -    ابن عساکر ، رقم۵۳۲۰ ، ابو الحسن عمرو بن جامع الکوفی ، ۴۵ /  ۴۵۰
2 -    مسند ابی یعلی ، مسند انس بن مالک ، ۳ /  ۲۹۳ ، حدیث : ۳۶۶۶