مِّنَ الشَّیْطٰنِ تَذَكَّرُوْا فَاِذَاهُمْ مُّبْصِرُوْنَۚ(۲۰۱) ( پ۹ ، الاعراف : ۲۰۱)
انھیں کسی شیطانی خیال کی ٹھیس لگتی ہے ہوشیار ہوجاتے ہیں اسی وقت ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں ۔
آیت یادآتے ہی وہ بے ہوش ہوکرگرپڑا ، عورت نے اپنی لونڈی کے ساتھ مل کر نوجوان کو اٹھایااوراُس کے گھر کے باہر ڈال کر چلی گئی ، دوسری طرف والد صاحب پریشان ہوکرتلاش میں گھر سے نکلے تو کیا دیکھا کہ بیٹادروازے پر بیہوش پڑا ہے ، اہل خانہ کی مدد سے اٹھاکر گھرلائے ، کافی رات گزرنے کے بعدنوجوان کوہوش آیاتووالدصاحب نے پوچھا : بیٹا تمہیں کیا ہواتھا؟اُس نے عرض کی : سب خیریت ہے ۔ والد نے کہا : میں تم سے پوچھ رہا ہوں ۔ تو اُس نے پورا حال کہہ سنایا ، والد نے پوچھا : بیٹا!تمہیں کون سی آیت یاد آئی تھی تو اُس نے جیسے ہی وہ آیَتِ طَیِّبَہ دوہرائی تو پھر سے بیہوش ہوکر گر پڑا ، جب اُسے ہلاکر دیکھا تواُس کی روح قفَسِ عُنْصُری سے پرواز کرچکی تھی ۔ انہوں نے اُسے غسل وکفن دیا اور رات ہی میں لے جاکر دفنا دیا ۔ صبح جب یہ خبراَمِیْرُالْمُؤمنین حضرت سیِّدُنا عُمَر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکوپہنچی تو آپ نے اس کے والدکے پاس آکرتعزیت کی اورفرمایا : تم نے مجھے رات ہی کو خبر کیوں نہ دی؟والدنے عرض کی : اَمِیْرُالْمُؤمنین!اِس لیے کہ رات کاوقت تھا ۔ فرمایا : ہمیں اُس نوجوان کی قَبْر پر لے چلو ۔ پس آپ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ اُس کی قبر پرتشریف لائے تو اُسے پکارا : اے فلاں!ربِّ کریم کا ارشاد ہے :
وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِۚ(۴۶) ( پ۲۷ ، الرحمٰن : ۴۶) ترجمۂ کنزالایمان : اورجواپنے رب کے حضورکھڑے ہونے سے ڈرے اس کے لئے دوجنتیں ہیں ۔
اس صالح نوجوان نے قبر کے اندر سے دومرتبہ جواب دیا : امیرالمؤمنین! میرے