Brailvi Books

بیاناتِ دعوتِ اسلامی
159 - 541
 مالک ومختارہونے کے باوُجُودبھی آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے شوقِ عبادت کایہ عالَم تھاکہ کثرتِ عبادت کے سبب  مُبارَک قدموں پروَرَم( سُوجن) کے آثارنُمایاں ہوجاتے اورآپ اُمّت کے گناہگاروں کی  بخشش کے لیے آہ و  زاری فرمایاکرتے  ۔ اس میں بِالْخُصُوص ان نوجوانوں کے لئے نصیحت کے مدنی پُھول ہیں جن کا دل عبادت کی جانب مائل نہیں ہوتااوروہ  ساری ساری رات فُضُولیات ولَغْویات میں بربادکردیتے ہیں ، لہٰذاایسوں کی خدمت میں عرض ہے کہ خدارا!مُحِسنِ انسانیتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے مُبارَک آنسوؤں کویادکیجئے ، دُنیاوآخرت میں کامیابی پانے کے لئے اَحکامِ خُداوَنْدی کی بجاآوری ، سُنَّتوں کی پیروی اوراُخْروی اِنْعامات پانے کی حرص میں خوب خوب نیکیاں کیجئے ۔ 
	یادرکھئے !جوانی میں عبادت  کی توفیق نصیب ہوناکسی نعمَتِ عُظمیٰ( بہت بڑی نعمت) سے کم نہیں کیونکہ جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی انسان شیطان کی خطرناک چالوں ، نَفس کی ناجائز خواہشوں ، بُرے دوستوں کی صحبتوں ، فانی دُنیا کی رنگینیوں اوردُنیوی مُسْتقبل بہتر بنانے کی فکروں میں مبتلاہوکردولت کمانے کے ناجائزطریقوں کے سبب گُناہوں کی اندھیریوں میں بھٹکتاپھرتاہے اور عبادت و رِیاضت کی  طرف مائل نہیں ہوپاتا ۔ یادرکھئے !ہمیں  بَہُت  ہی مُختصر وقت کے لئے دُنیامیں بھیجاگیاہے اوراس وَقفے میں قبروحشرکے طویل ترین مُعاملات کے لئے تیاری بھی کرنی ہے ، لہٰذاسمجھداروہی ہے جواس مختصروَقْت کوغنیمت جانتے ہوئے قبروحشر کی تیاری میں مشغول ہوجائے اورلمحہ بھربھی اپناقیمتی وَقْت فُضُول کاموں میں برباد نہ کرے کیونکہ معلوم نہیں کہ آئندہ لمحے وہ زِندہ بھی رہے گایاموت اسے ایک لمبے عرصے کے لیے گہری نیندسُلادے گی ۔ لہٰذا جوانی  اور زندگی کو غنیمت جانتے ہوئے نیکیوں میں مشغول ہوجائیے ۔