بخشوانے والے مُصْطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممعصوم بلکہ معصوموں( یعنی فرشتوں) اور عبادت گزاروں کے سردار ہونے کے باوُجُودکس قَدَر گِریہ و زاری کے ساتھاللہرَبُّ العٰلمینعَزَّ وَجَلَّکی عِبادت کیاکرتے حالانکہ آپ کی شان وعظمت اس قَدَر بُلندوبالاہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ کومالک ومُختاربنایااورایساکہ آپ بِاذنِ اِلٰہی اپنے اِخْتیارسے روزِمحشر گناہ گاروں کی شَفاعت فرمائیں گے ۔ چنانچہ
مقامِ مصطفٰے :
حضورسیِّدُالانبیاءوالمرسلینصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنی زبانِ حق ترجمان سے اپنی شانِ رِفْعت نشان یوں بیان فرمائی کہ جب لوگ اٹھائے جائیں گے توسب سے پہلے میں اپنی قبرانورسے باہرآؤں گا ، جب لوگ گروہ کی صُورت میں آئیں گے تومیں ہی ان کاراہ نُما ہوں گا ، جب لوگ خاموش ہوں گے ( کوئی بارگاہِ الٰہی میں بات نہ کرے گا) تومیں ہی ان کا خطیب ( یعنی اُن کی طرف سے عرض ومعروض کرنے اوررب تعالیٰ کاپیغام انہیں سنانے والا) ہوں گا ، جب وہ روکے جائیں گے تومیں ہی ان کاسِفارشی ہوں گا ، جب وہ نااُمیدومایوس ہوجائیں گے تو میں ہی انہیں خُوشخبری سُنانے والاہوں گا ۔ بُزرگی اور( اللہعَزَّ وَجَلَّکے ) خزانوں کی چابیاں اس دن میرے ہاتھوں میں ہوں گی اورمیں ساری اولادِآدم میںاللہعَزَّ وَجَلَّکے نزدیک سب سے زِیادہ بُزرگی والاہوں اورکوئی فخرنہیں اورایک ہزارخدمت گارمیرے اِرْدگرد گھومیں گے گویا وہ بکھرے ہوئے موتی یاپوشیدہ رکھے ہوئے انڈے ہیں ۔ (1)
سُبْحٰنَاللہعَزَّ وَجَلَّ!قُربان جائیے !اوَّلین وآخرین کے سرداراوررب تعالیٰ کی عطاسے
________________________________
1 - ترمذی ، کتاب المناقب ، باب ماجاء فی فضل النبیصلی اللّٰہ علیہ وسلم ، ۵ / ۳۵۲ ، حدیث : ۳۶۳۰
دارمی ، المقدمہ ، باب مااعطی النبیصلی اللّٰہ علیہ وسلم من الفضل ، ۱ / ۳۹ ، حدیث : ۸۳