میں حاضرہوئے ۔ حضرت سیِّدُنااِبْنِ عُمَررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَانے عرض کی : ہمیںرَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے بارے میں کوئی تعجب خیزبات بتائيے ۔ توآپ رو پڑیں اورفرمایا : ایک راترَسُوْلُاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممیرے ہاں تشریف لائے اور ابھی میرے پاس بیٹھے ہی تھے کہ فرمانے لگے : عائشہ !مجھے اِجازت دو کہ میں اپنے رَبّعَزَّ وَجَلَّکی عبادت کرلوں ۔ میں نے عرض کی : مجھے اپنی خواہش کے مقابلے میں آپ کا رَبّ تَعالیٰ کے قریب ہونازِیادہ پسندہے ۔ چُنانچہ آپ گھرکے ایک کونے میں کھڑے ہوکر اَشک باری فرمانے لگے ۔ پھر اچھی طرح وُضو کر کے قرآنِ کریم پڑھنا شُروع کیا تو دوبارہ روناشروع کردیاحتّٰی کہ چَشمانِ مُبارَک سے نکلنے والے آنسو زمین تک جا پہنچے ۔ اِتنے میں حضرت بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہحاضرہوئے اورآپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکوروتادیکھ کرعرض کی : یارسولَاللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!میرے ماں باپ آپ پرقُربان!کس چیزنے آپ کورُلایا؟حالانکہ اللہعَزَّ وَجَلَّآپ کے طفیل آپ کے اگلوں اور پچھلوں کے گُناہ بخشے گا ۔ توآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : کیا میں شُکر گزار بندہ نہ بنوں؟(1)
روتا ہے جو راتوں کو اُمّت کی مَحبَّت میں وہ شافِعِ محشر ہے سردار مدینے کا
راتوں کو جو روتا ہے اور خاک پہ سوتا ہے غم خوار ہے ، سادہ ہے مختار مدینے کا
قبضے میں دو عالَم ہیں پَر ہاتھ کا تکیہ ہے سوتا ہے چٹائی پر سَردار مدینے کا(2)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!غورکیجئے کہ ہمارے بخشے بخشائے آقا ، ہم عاصِیوں کو
________________________________
1 - درّة الناصحین ، المجلس الخامس والستون : فی بیان البکاء ، ص۲۵۳
2 - وسائِلِ بخشش مرمم ، ص۱۸۰