اللہعَزَّ وَجَلَّکا محبوب بندہ :
(4)…ارشادفرمایا : بے شکاللہعَزَّ وَجَلَّاس نوجوان سے مَحَبَّت فرماتاہے جس نے اپنی جوانی کو اِطاعتِ خُداوَنْدی میں فناکردیا ہو ۔ (1)
محبت میں اپنی گُما یا اِلٰہی نہ پاؤں میں اپنا پتا یا اِلٰہی
تُو اپنی وِلایت کی خَیْرات دیدے مِرے غَوث کا واسِطَہ یاالٰہی(2)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اِسلامی بھائیو!دیکھاآپ نے کہ جوانی کے قَدردانوں پراللہعَزَّ وَجَلَّ کیساخاص فَضْل و کرم فرماتاہے کہ انہیں اپنے محبوب بندوں میں شامل فرمالیتاہے ۔ لہٰذا نوجوانوں کی خِدْمت میں عرض ہے کہ اگر بُڑھاپے میں سُکون و اِطْمینان والی زِندگی گُزارنے کے خواہش مندہیں تو نعمَتِ جوانی کو غنیمت جانتے ہوئے اس فانی دُنیا کے پیچھے بھاگنے کے بجائے اپنے نَفْس کو عبادت و رِیاضت کی جانب مائل کرنے کی کوشش کیجئے ۔ اگرچہ یہ بڑا دُشْوار ہے کیونکہ جوانی میں اُمیدیں اورخواہشیں عُروج پرہوتی ہیں ، لیکن اگرہم حُضُورنَبِیِّ اَکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی پیروی کرتے ہوئے عِبادت ورِیاضت سے سجی آپ کی پاکیزہ زندگی کے مطابق عمل کریں گے تواِنْ شَآءَاللہعَزَّ وَجَلَّہماری زندگی میں بھی مدنی بہاریں آجائیں گی ۔
آقاصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکاذوقِ عبادت :
مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبْدُاللہبن عُمَر ، حضرت سیِّدُناعطااورحضرت سیِّدُنا عُبَیْد بن عَمْروعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاناُمُّ الْمُؤمنین حضرت سیِّدَتُناعائشہ صدِّیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکی بارگاہِ عالیہ
________________________________
1 - حلیة الاولیاء ، عبدالملک بن عمر بن عبدالعزیز ، ۵ / ۳۹۴ ، حدیث : ۷۴۹۶
2 - وسائِلِ بخشش مرمم ، ص۱۰۵