دِیدارِ الٰہی کرنے والوں میں مجھے تلاش کیجئے گا ۔ میں نے پُوچھا : آپ نے یہ کہاں سے جان لیا؟ جواب دیا : اُس کی عزّت کی قسم!اُسی کی طرف سے ، کیونکہ میں نے اپنی آنکھوں کو حرام کردہ چیزوں سے اوراپنے نَفْس کو خواہشات کے حُصُول سے باز رکھا اور تاریک راتوں میں اس کی عبادت کے لئے تَنْہائی اِخْتیار کی پس اس کے بدلے وہ مجھے اپنا دِیدار کرائے گا ۔ پھر وہ نوجوان غائب ہوگیا ، اس کے بعد کبھی اس سے مُلاقات نہ ہوسکی ۔ (1)
رہوں مست و بے خود میں تیری وِلا میں پِلا جام ایسا پِلا یا اِلٰہی(2)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!بَیان کردہ حکایت میں اس نوجوان نے جوانی کے زمانے میں ہی دنیاکی رنگینیوں سے ناطہ توڑکرعبادت ورِیاضت میں خودکومشغول رکھااور شریعت کی حرام کردہ اَشْیاء دیکھنے سے بازرہااوراکیلے اس جنگل میں رہنے سے بھی گُریزنہ کیا ۔ اس حکایت میں خاص طورپران نوجوانوں کے لئے نصیحت کے بے شُمارمَدَنی پُھول ہیں جواپنی جوانی کے نَشے میں مَدہوش رہتے ، نَفْس وشیطان کے بہکاوے میں آکرگُناہوں میں مُلَوَّث رہتے اوررَبّ تَعالیٰ کی ناراضی کاسامان کرتے ہیں ۔ ایسوں کوچاہئے کہ جوانی کی اَہَمیَّت کو سمجھتے ہوئے اُس کے قیمتی لمحات کو فُضولیات میں برباد کرنے کے بجائے عبادتِ الٰہی میں گُزاریں کہ زِندگی میں یہ نعمت صرف ایک بارملتی ہے ۔
جوانی ایک بارہی ملتی ہے :
مشہورمُفَسِّرِقرآن ، حکیْمُ الاُمَّت مُفتی احمدیارخان نعیمیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں :
________________________________
1 - الروض الفائق ، المجلس الحادی و الثلاثون ، ص۱۶۶
2 - وسائِلِ بخشش مرمم ، ص ۱۰۵