سے الگ تھلگ جنگل میں مَصروفِ عبادت دیکھا ۔ میں نے سلام کیا ، اس نے جواب دیا ۔ پھر میں نے اس سے کہا : اے نوجوان!تم ایسی وِیران جگہ میں ہو ، جہاں تمہارا کوئی مددگار ہے ، نہ رفیق ۔ اس نے کہا : کیوں نہیں ، میرے رَبّعَزَّ وَجَلَّکی قسم!میرامددگاربھی ہے اور رفیق بھی ۔ میں نے پُوچھا : وہ مددگار و رفیق کہاں ہے ؟اس نے جواب دیا : وہ اپنی عزّت کے ساتھ میرے اوپر ، اپنے عِلْم وحکمت سے میرے ساتھ ، اپنی ہدایت کے ساتھ میرے سامنے ، اپنی نعمت کے ساتھ میرے دائیں اوراپنی عظمت کے ساتھ میرے بائیں ہے ۔ ایسی باتیں سُن کرمیں نے عرض کی : کیاآپ مجھے اپنی صحبت اِخْتیار کرنے کی اجازت دیں گے ؟تو وہ کہنے لگا : آپ کی رفاقت مجھے عبادت سے غافِل کردے گی اورمیں اس بات کوپسندنہیں کرتااورمشرق تامغرب زمین کابادشاہ میرے لئے کافی ہے ۔ میں نے پُوچھا : آپ کواس جگہ میں وَحْشَت نہیں ہوتی؟اس نے مجھے جواب دیا : جس کا حبیب واَنیس ، اللہعَزَّ وَجَلَّہو اُسے کیونکر وَحْشَتْ ہو گی؟میں نے پُوچھا : کھانا کہاں سے کھاتے ہیں؟جواب دیا : جب اُس نے اپنے لُطف وکرم سے ماں کے تاریک پیٹ میں بھی مجھے غِذادی توکیااب وہ میری کفالت نہیں فرمائے گا ، میرے لئے اس کے پاس مُقَرَّر رِزْق ہے اور اس کا وَقْت بھی لکھا ہوا ہے ۔
پھر میں نے اُس سے دُعا کی دَرْخواست کی تو اس نے مجھے یُوں دُعادی : اللہعَزَّ وَجَلَّآپ کی آنکھوں کو اپنی نافرمانی سے محفوظ فرمائے ، دل کواپنے خوف سے بھردے اورآپ کوان لوگوں میں سے نہ بنائے جواس کے غیرمیں مشغول ہوکرعبادت سے غافل ہوجاتے ہیں ۔ جب وہ جانے کے لئے کھڑا ہوا تو میں نے قریب ہوکرعرض کی : اے میرے بھائی! آپ سے دوبارہ مُلاقات کب ہوگی؟تووہ مُسکراکرکہنے لگا : آج کے بعددنیامیں توآپ سے مُلاقات نہ ہوگی ۔ ہاں! بروزِقیامت جب سب لوگ جمع ہوں گے تو اگر آپ مجھ سے ملناچاہیں تو