نَسَب تبدیل کرنے کاوبال :
حضرتعبدُاللہبن عَمْرورَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مَرْوِی ہے کہرَسُوْلُاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : جوشَخْص اپنے باپ کے علاوہ کسی کواپنا باپ بنانے کا دعویٰ کرے وہ جَنَّت کی خُوشبوبھی نہیں سُونگھے گا ، حالانکہ جَنَّت کی خُوشبُو500 بَرَس کی راہ سے محسوس کی جائے گی ۔ (1)
دوجہاں کے تاجور ، سلطانِ بحروبرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکافرمانِ عبرت نِشان ہے : جو اپنے باپ کے علاوہ کسی کو اپناباپ بنانے کا دَعْویٰ کر ے ، حالانکہ وہ جانتاہے کہ وہ اس کا باپ نہیں ہے ، تو اس پر جنَّت حَرام ہے ۔ (2)
شیْخِ طریقت ، اَمِیْرِاہلسنتدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہفرماتے ہیں : میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یہاں وہ لوگ عِبْرت حاصِل کریں جو لے پالک بچّے کادِل رکھنے کے لئے اُس پر اپنے آپ کوحقیقی باپ ظاہِرکرتے ہیں اوروہ بھی بے چارہ عُمْربھراُسی کواپناحقیقی باپ سمجھتاہے ، اپنے سچّے باپ کواِیصالِ ثَواب اوراُس کے لئے دُعاکرنے تک سے مَحرُوم رہتاہے ۔ یادرکھئے !ضَروری دستاویزات ، شَناختی کارڈ ، پاسپورٹ اور شادی کارڈ وغیرہ میں بھی حقیقی باپ کی جگہ منہ بولے باپ کا نام لکھواناحَرام اور جہنَّم میں لے جانے والاکام ہے ۔ طلاق شُدہ یا بیوہ عَورتیں بھی اپنے اگلے گھر کے بچوں کو اُن کے حَقِیقی باپ کے مُتَعَلِّق اندھیرے میں رکھ کر آخِرت کی بربادی کا سامان نہ کریں ۔ عام بول چال میں کسی کو ابّاجان کہہ دینے میں حَرَج نہیں جبکہ سب کو مَعلُوم ہو کہ یہاں ”جسمانی رشتہ“ مُرادنہیں ۔ ہاں اگر ایسے ”ابّا جان“ کوبھی کسی
________________________________
1 - ابن ماجة ، کتاب الحدود ، باب من ادعی الی غیرابیہ الخ ، ۳ / ۲۵۴ ، حدیث : ۲۶۱۱
2 - بخاری ، کتاب الفرائض ، باب من ادعی الی غیر ابیہ ، ۴ / ۳۲۶ ، حدیث : ۶۷۶۶