Brailvi Books

بیاناتِ دعوتِ اسلامی
140 - 541
بکریوں کے ریوڑمیں اِتنی تَباہی نہیں مَچاتے جتنی تَباہی حُبِِّ جاہ و مال( یعنی مال و دَولت اور عزّت وشُہرت کی مَحَبَّت) مُسَلمان کے دِین میں مَچاتی ہے ۔ (1) بَیان کردہ حدیثِ پاک سے مَعلُوم ہوا کہ حُبِِّ جاہ میں ہلاکت ہی ہلاکت ہے ۔ اس ناپاک بیماری کی آفَتوں کے سَبَب حضرت سیِّدُنا ابُونَصْربِشْرحافیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : میں کسی ایسے شَخْص کونہیں جانتاجواپنی شُہرت چاہتا ہو اوراس کادِین تَباہ و برباداور وہ خُود ذَلیل و خوار نہ ہوا ہو ۔ (2) 
غیرسیِّدکاسادات بننا : 
	اندازہ لگائیے کہ اپنی شُہرت و عزّت کی خَواہش کرناکیساخَطَرناک مَرَض ہے ۔ اسی مَرَض کاشِکاربَعْض اَفرادایسے بھی ہوتے ہیں کہ لوگوں سے عزّت پانے کے لئے جھوٹ کا سَہارالیتے ہوئے اپنی ذات  بدلنے سے بھی  گُریزنہیں کرتے ۔ برِّصغیرپاک وہِند میں ”سیِّد“ کالفظ ایسے لوگوں کے لیے بولاجاتاہے ، جن کاسِلْسِلۂ نَسَب اپنے والدکی طرف سے حُضُورِ اَنْور ، شافِعِ مَحْشرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے ملتاہو ۔ ہمارے ہاں جاہ وحَشْمت اورقَدَرومَنْزِلَت کوپانے کے لئے بَعْض غَیْرسیِّداَفرادبھی اپنے آپ کو”سادات“کہلواتے ہیں ، حالانکہ یہ بات حَقِیْقَت سے بہت دُور ہوتی ہے ۔ 
	یادرہے !اپنے حَقِیقی باپ کوچھوڑکرکسی دوسرے کواپناباپ بتانایااپنے خاندان ونَسَب کو چھوڑ کرکسی دوسرے خاندان سے اپنا نَسَب جوڑناحَرام اوردوزخ میں لے جانے والا کام ہے ۔ اَحادیْثِ مُبارَکہ میں اس بارے میں بڑی سَخْت وعیدیں آئی ہیں ۔ چُنانچِہ



________________________________
1 -   ترمذی ، کتاب الزھد ، باب۴۳ ، ۴ /  ۱۶۶ ، حدیث : ۲۳۸۳
2 -    احیاء العلوم ، کتاب ذم الجاہ و الریاء ، بیان ذم الشھرة   الخ ، ۳ / ۳۴۰