بھی جائے ، تب بھی یہ اَفراد اِن اِصْطِلاحات کو اِسْتِعْمال کرنے کے مَجاز نہیں ہوتے ۔ عُمُوماً وہ لوگ کہ جنہیں اَدْوِیات کا تھوڑا بہت علم ہوجائے یا جوبطور ڈِسْپِنْسَر( Dispenser) ، یا کسی کلینک( Clinic) میں بطور ہیلپر( Helperیعنی مُعاوِن) کام کر چکے ہوں ، تو وہ بھی اپنے آپ کونہ صرف”ڈاکٹر( Doctor) ‘‘ کہتے دِکھائی دیتے ہیں بلکہ اپنے لیے ’’ ڈاکٹر ‘‘ کالَفْظ کہلوانا پسندبھی کرتے ہیں ، حالانکہ ’’ ڈاکٹر ‘‘ کا لَفْظ ایک خاص ڈِگْری کی نِشاندہی کرتا ہے اور اسے وہی شَخْص اِسْتِعْمال کر سکتاہے جو اس کااَہْل بھی ہو ۔ اِس کے عِلاوَہ کسی اور کااسے اِسْتِعْمال کرناقانوناً جُرْم اور شَرْعاًجُھوٹ کہلاے ٔگا ۔ اِسی طرح بعض اَفْرادکوجب چندجَڑی بُوٹیوں کا علم ہوجاے ٔیاعِلْمِ طِبْ کے بعض نُسْخے پتاچل جائیں تووہ بھی اپنے نام کے ساتھ”حکیم صاحب“
کہلوانے اورلکھنے میں بڑافخرمحسوس کرتے ہیں ۔ حالانکہ یہ سَراسَرجُھوٹ اوردھوکاہے ۔ اسی طرح جھوٹ کابازاراس قَدَر گرم ہے کہ بعض علم سے کورے ( خالی) لوگ بھی عُلَماکی صَفْ میں گھسنے سے دَریغ نہیں کرتے ، یہاں تک دیکھاگیاہے کہ نِرے جاہِل لوگ بھی اپنے لئے ”عَلَّامَہ وفَہَّامَہ“( بہت زیادہ علم رکھنے والا ، بہت سمجھ بُوجھ رکھنے والا) وغیرہ جیسے الفاظ اِسْتِعْمال کرنے میں ذرا نہیں ہِچکچاتے ۔ حالانکہ ایسا کرنا سَراسَرجھوٹ اورنِرا وَبال ہے ۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ہمارے مُعاشَرے میں پائی جانے والی باطِنی بیماریوں میں سے ایک بہت ہی خَطَرناک بیماری”حُبِِّ جاہ“بھی ہے ، جس کامطلب ہے شُہرت و عزّت کی خواہش کرنا ۔ (1) اوریہ خواہش ہر فَسادکی جَڑ ہے ۔ بسا اَوقات یہ دِین کو بھی تباہ و بربادکردیتی ہے ، اس لیے اِس سے بچنابہت ضَروری ہے ۔ ایک مُسَلمان کے لیے تاجدارِ مدینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کایہ فرمانِ عِبْرت نِشان ہی کافی ہے کہ دوبُھوکے بھیڑیے
________________________________
1 - احیاء العلوم ، کتاب ذم الجاہ و الریاء ، بیان ذم الشھرة الخ ، ۳ / ۳۴۰