افسرہویاکوئی چَوکیدار ، اَلْغَرَض!مُعاشَرے کی غالب اکثریت اِس مَرَض کاشکارنَظَرآتی ہے ۔ بدقسمتی سے آج کل ایسے مَواقِع پربھی جھوٹ کاسَہارا لے لِیاجاتا ہے ، جہاں سچ بولنے کی صُورت میں کوئی دُنیوی نُقصان بھی نہیں ہوتا ۔
بچّوں سے جھوٹ بولنا :
اِنہی صُورتوں میں سے ا یک ، والِدَین کااپنے کَم عُمربچوں سے جُھوٹ بولنابھی ہے ۔ عُمُوماًدیکھاجاتاہے کہ والِدَین چھوٹے بچّوں سے اپنی بات مَنْوانے کے لئے طرح طرح کے جُھوٹ بولتے ہیں ۔ جیسے اِدھرآؤبیٹا!چیزلے لو ، پھرچلے جانا( حالانکہ کچھ دینانہیں ہوتا) یا چھوٹے بچّے کوبہلانے کے لئے یہ کہناکہ بیٹا چُپ ہوجاؤ ، ہم تمہیں کِھلونے لاکردیں گے ( جبکہ ایسا اِرادہ نہیں ہوتا) ۔ اسی طرح بات نہ ماننے پر انہیں ڈرانے کے لیے جُھوٹ بول دینا ۔ جیسے جلدی سو جاؤ ورنہ بلّی یا کُتّا آجائے گاوغیرہ وغیرہ ۔ یادرکھئے !اس طرح کے تمام جُملے جھوٹ کوشامل ہیں اورکہنے والاجہاں خودجھوٹ کے سَبَب سَخْت گنہگارہوتاہے ، وہیں اِن جھوٹے جُملوں سے بچّے کی اَخلاقی تَرْبِیَت پربھی گہرا اَثَر پڑتاہے ، جس کے نتیجے میں وہ بچپن ہی سے سچ سننے اور سچ بولنے سے مَحروم ہو کر جھوٹ سننے اورجھوٹ بولنے کا عادی بن جاتاہے ۔ ایسے ماحول میں پَروَرِش پانے والابچّہ جیسے ہی تھوڑاسمجھدارہوتاہے ، بات بات پہ جھوٹ بولنے لگتا ہے ، لہٰذا ہمیں اپنے بچّوں سے بھی جھوٹ نہیں بولنا چاہیے ۔
حضرت سیِّدُناعبْدُاللہبن عامِررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہبیان کرتے ہیں کہرَسُوْلُاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہمارے ہاں تشریف فرماتھے ، میری والدہ نے مجھے بُلایاکہ اِدھرآؤ!تمہیں کچھ دیتی ہوں ۔ ‘‘ توآپصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : کیاچیزدینے کااِرادہ ہے ؟عرض