تَعَالٰی عَنْہُمَامدینہ منورہ واپس تشریف لائے تواُس کے مالِک سے غُلام اورساری بکریاں خرید لیں ، پھرچَرواہے کوآزادکردیااوربکریاں بھی اُسے تحفے میں دے دیں ۔ (1)
صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
سچ بولنے سے جان بچ گئی :
مَنْقول ہے کہ ایک دنحَجَّاج بن یُوسُف چندقَیدیوں کو قَتْل کروارہا تھا ، ایک قَیدی اُٹھ کر کہنے لگا : اے اَمیر!میرا تم پر ایک حق ہے ۔ حَجَّاج نے پُوچھا : وہ کیا؟کہنے لگا : ایک دن فُلاں شَخْص تمہیں بُرا بَھلا کہہ رہا تھا ، تو میں نے تمہارا دِفاع( یعنی بچاؤ) کِیا تھا ۔ حَجَّاج بولا : اِس کاگواہ کون ہے ؟اُس شَخْص نے ( لوگوں کی طرف متوجہ ہوکر) کہا : میںاللہعَزَّ وَجَلَّکا واسِطہ دے کرکہتا ہوں ، جس نے وہ گُفْتُگو سُنی تھی وہ گَواہی دے ۔ ایک دوسرے قَیدی نے اُٹھ کر کہا : ہاں!یہ واقِعہ میر ے سامنے پیش آیا تھا ۔ حَجَّاج نے کہا : پہلے قَیدی کو رِہا کردو ، پھر گواہی دینے والے سے پوچھا : تجھے کیارُکاوٹ تھی کہ تُونے اُس قَیدی کی طرح میرا دِفاع ( یعنی بچاؤ) نہ کِیا؟ اُس نے سچّائی سے کام لیتے ہوئے کہا : ’’ میرے دل میں تمہاری پُرانی دُشمنی تھی ۔ ‘‘ حَجَّاج نے کہا : اسے بھی رِہا کردو ، کیونکہ اس نے بڑی ہِمّت کے ساتھ سچ بولا ہے ۔ (2)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!معلوم ہوا سچ بولنے والا ہمیشہ کامیاب ہوتاہے ، کیونکہ ”سانچ کو آنچ نہیں ‘‘ یعنی سچ بولنے والے کو کوئی خطرہ نہیں ، وہ سَراسَر فائدے میں ہی ہے ۔ مگرافسوس !صَد افسوس! آج ہمارے مُعاشَرے میں جُھوٹ ایک وَبائی مَرَض کی صُورت اِخْتِیارکرتاجارہاہے ۔ مردہویاعورت ، چھوٹاہویابڑا ، اَمِیرہویاغَرِیب ، وَزِیرہویااُس کا مشیر ،
________________________________
1 - شعب الایمان ، باب فی الامانات ووجوب ادائھا الی اھلھا ، ۴ / ۳۲۹ ، حدیث : ۵۲۹۱ ، ملخصا
2 - وفیات الاعیان ، رقم۱۴۹ ، ابو محمد الحجاج بن یوسف ، ۲ / ۲۸