میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھاآپ نے سچ بولنے والے خُوش نصیب لوگ کیسے کیسے عَظِیْمُ الشّان فَضائِل اور دُنیا و آخِرت کے اِنْعامات سے سَرفَراز ہوتے ہیں ، لہٰذا اگر ہم بھی ان اِنعامات و فَضائِل کے حُصُول کے خواہِشمندہیں توہمیں بھی اپنے آپ کو سچ کا خُوگر ( عادی) بناناہوگا ۔ واقعی جہاں سچ بولنے کے اُخْرَوی فَضائل و بَرکات حاصِل ہوتے ہیں ، وہیں بَسا اَوْقات بڑی بڑی دُنیوی پریشانیوں سے بھی نَجات مِل جاتی ہے ۔ چنانچہ
سچاچرواہا :
حضرت سیِّدُنانافِعرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں : حضرت سیِّدُنااِبْنِ عُمَررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا اپنے بعض اصحاب کے ساتھ سفرمیں تھے ، راستے میں ایک جگہ ٹھہرے اورکھانے کے لیے دَسْتَرخَوان بچھایا ، اِتنے میں ایک چَرواہا ( یعنی بکریاں چَرانے والا) وہاں آگیا ، آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا : آئیے ، دَسْتَرخوان سے کچھ لے لیجئے ۔ اس نے عَرْض کی : میراروزہ ہے ۔ آپ نے فرمایا : ایک توسخت گرمی اوردوسراتم پہاڑوں میں بکریاں چرارہے ہو ، پھر بھی( نَفْل) روزہ رکھے ہوئے ہو ۔ اُس نے کہا : اللہعَزَّ وَجَلَّکی قسم!میں یہ اِس لیے کر رہا ہوں تاکہ گزرے دنوں کی تلافی کرسکوں ۔ آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے اُس کی پرہیزگاری کاامتحان لینے کے اِرادے سے فرمایا : کیاتم اپنی بکریوں میں سے ایک بکری ہمیں بیچو گے ؟ ہم اس کی قیمت ادا کریں گے اورروزہ افطارکرنے کے لئے تمہیں گوشت بھی دیں گے ۔ اُس نے جواب دیا : یہ بکریاں میری نہیں ، میرے مالک کی ہیں ۔ آپ نے آزمانے کے لیے فرمایا : مالک سے کہہ دیناکہ بھیڑیا ، ان میں سے ایک کولے گیاہے ۔ غُلام نے کہا : توپھراللہعَزَّ وَجَلَّکہاں ہے ( یعنی اللہعَزَّ وَجَلَّتو دیکھ رہاہے ، وہ توحقیقت کوجانتاہے اوراس پرمیری پکڑفرمائے گا) ؟حضرت سیِّدُنااِبْنِ عُمَررَضِیَ اللہُ