میں جُھوٹ نہ بولوں کبھی گالی نہ نِکالوں! اللہ مَرَض سے تُو گُناہوں کے شِفا دے ! (1)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اندازہ کیجئے کہ جُھوٹ آخِرت کے لئے کس قَدَر نُقْصان دِہ ہے ۔ لہٰذاعَقْلمندوہی ہے جوجُھوٹ سے پیچھاچُھڑاکرہمیشہ سچ کادامَن تھامے رہے ۔ سچ بولنے سے اِنْسان نہ صِرف جھوٹ کی اِن وَعِیدوں سے بچ سکے گابلکہ سچ بولنے کے فَوائد سے بھی مالامال ہوگا ۔ چُنانچہ
سچ بولنے کے فوائد :
مشہورمُفَسِّرِقرآن ، حکیْمُ الامّت ، مُفتی احمدیارخان نعیمیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ( سچ بولنے کے فوائدبیان کرتے ہوئے ) فرماتے ہیں : ٭ … جو شَخْص سچ بولنے کا عادی ہوجائے ، اللہعَزَّ وَجَلَّ اُسے نیک کار بنادے گا ۔ ٭ … اس کی عادت اچھے کام کرنے کی ہوجائے گی ۔ ٭ … اس کی بَرَکت سے وہ مرتے وَقْت تک نیک رہے گا ۔ ٭ … بُرائیوں سے بچے گا ۔ ٭ … جو اللہعَزَّ وَجَلَّکے نزدیک صِدّیق ہوجائے اس کاخاتِمہ اچھا ہوتاہے ۔ ٭ … وہ ہرقسم کے عَذاب سے مَحفُوظ رہتاہے ۔ ٭ … ہرقسم کاثَواب پاتا ہے ۔ ٭ … دُنیابھی اُسے سچّاکہنے ، اچھاسمجھنے لگتی ہے ۔ ٭ … ا ُس کی عزّت لوگوں کے دِلوں میں بیٹھ جاتی ہے ۔ (2) ٭ … سچ ایک ایسانُورہے جو سچ بولنے والوں کے دلوں کی ہدایت کاسبب بنتاہے ، جس قَدَراُنہیں اپنے رَبّعَزَّ وَجَلَّ کاقُرب حا صِل ہوتا ہے ، اُتنا ہی اُنہیں وہ نُور حاصِل ہوتاجاتا ہے ۔ (3)
________________________________
1 - وسائل بخشش مرمم ، ص۱۱۵
2 - مراٰۃ المناجیح ، ۶ / ۴۵۲
3 - روح البیان ، پ۲۲ ، الاحزاب ، تحت الایة : ۳۵ ، ۷ / ۱۷۵