بربادہوجائے ، غورکیجئے !جب مُجْرِموں کی فہرست میں اپنانام دیکھناکسی کومنظورنہیں تو خُدائے واحِدوقَہّارعَزَّ وَجَلَّ کے نزدیک اگر کسی کو جُھوٹوں کی فہرست میں ڈال دیا جائے اورمُسَلْسَل جُھوٹ بولنے کی وجہ سے اسے بہت بڑا جھوٹا لکھ دیا جائے ، ایک مُسَلمان کویہ بھی گوارا نہیں ہوناچاہیے ۔ اسی طرح اگر کسی کومعلوم ہو کہ فُلاں راستے میں قدم قدم پر خطرہ ہے ، اس پر جانے سے جان ومال کا نُقصان بھی ہوسکتاہے ، تو عَقْلمند شَخْص ہمیشہ اس راستے پر جانے سے بچتا رہے گا ، مگرافسوس! ہمیں اپنی دنیا بہتر بنانے کی فِکْرتو ہردَم لگی رہتی ہے ، لیکن اپنی آخِرت اچھی بنانے کی کوشش سے یکسرغافِل ہیں ، ہم جانتے ہیں کہ جھوٹ جہنَّم کی طرف لے جانے والاایک خطرناک راستہ ہے ، مگرہم تمام ترخطرات کونظراَندازکرتے ہوئے بڑی تیزی سے اس راستے پرچلے جارہے ہیں ، افسوس صَدکروڑافسوس!اب توجھوٹ بولنے والوں نے مَعَاذَ اللہجھوٹ کوبُرائی سمجھناہی چھوڑدیا ۔ دُنیامیں جُھوٹ بول کرچندٹکَوں کافائدہ اُٹھانے والے ، جُھوٹے چُٹْکَلوںکے ذریعے دوسروں کوہنسانے والے ، جُھوٹے خواب سُناکردوسروں کادِل بہلانے والے ، اپنے نام کے ساتھ جھوٹے اَلْقابات لگاکرحُبِّ جاہ( عزت وشُہرت کی مَحبَّت) کا سامان کر نے والے یادرکھیں!کہ مرنے کے بعدجھوٹ کاعذاب ہرگزہرگزبرداشت نہ ہوسکے گا ۔ چُنانچہ
جبڑے چیرنے کاعذاب :
نُورکے پیکر ، تمام نبیوں کے سَرْوَرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اِرْشادفرمایا : میں نے خَواب دیکھاکہ ایک شَخْص میرے پاس آیااورکہا : میرے ساتھ چلئے ۔ میں اُس کے ساتھ چَل دِیا ، یکا یک میں نے خودکو دو آدمیوں کے پاس پایا ، ایک کھڑااوردُوسرابیٹھاتھا ، جوکھڑا