Brailvi Books

بیاناتِ دعوتِ اسلامی
127 - 541
 کی نشانیوں پریقین نہ ہویاوہ جوغیرمُسْلِم ہواوراللہعَزَّ  وَجَلَّ کاجھوٹ کی مذمَّت میں اس طرح کاکلام فرمانا ، نہایت ہی سخت تنبیہ ہے ۔ (1) 
نیکیوں میں دل لگے ہر دم بنا		عامِلِ سُنَّت اے نانائے حُسین!
جُھوٹ سے بُغْض و حَسد سے ہم بچیں		کیجئے رحمت اے نانائے حُسین!(2)
ایمان کمزورکردینے والامَرض :
	میٹھے میٹھے اسلامی  بھائیو!اندازہ لگائیے !جُھوٹ بولنے والے کی قرآنِ پاک میں کیسی مذمَّت بیان  فرمائی گئی ہے  ۔ بار بارجھوٹ بولنا  ایمان کی کمزوری پر دلالت کرتااور جھوٹے شَخْص کے  باطِنی بِگاڑ کا بھی سبب بنتا ہے ، جُھوٹ ایک ایسا مَرَض ہے جواِیمان کو کمزوروناتواں کرتاچلاجاتاہے ۔ جُھوٹ کامَرَض لاحِق ہونے کااندازبھی نِرالااورغیرمَحْسُوس ہوتاہے ، انسان ہربارجھوٹ بولتے ہوئے یہی سوچتاہے کہ ایک بارجُھوٹ بولنے سے کون سابڑانُقصان ہو جائے گا ۔ حالانکہ مُعاشَرے میں  بگاڑ عُمُوماًجھوٹ  بولنے کی وجہ سے ہی ہوتا ہے ۔ بکثرت جھوٹ بولنے والااللہعَزَّ  وَجَلَّکے ہاں بہت بڑاجھوٹالکھ دیاجاتااورجہنَّم کامستحق ہوجاتاہے ۔  آئیے جھوٹ کی مذمت  پرمشتمل تین فرامین مصطفٰے سنتے ہیں ۔ 
جھوٹ کی مَذمَّت پرمشتمل تین فرامین مصطفٰے : 
(1)…ارشادفرمایا : سچ بولنانیکی ہے اورنیکی جَنَّت میں لے جاتی ہے اورجھوٹ بولنافِسْق وفُجُور( گناہ) ہے اوریہ دوزخ میں لے جاتا ہے  ۔ (3) 



________________________________
1 -   تفسیر کبیر ، پ۱۴ ، النحل ، تحت الایة : ۱۰۵ ، ۷ / ۲۷۲ملتقطا
2 -   وسائل بخشش مرمم ، ص۲۵۸
3 -    مسلم ، کتاب الادب ، باب قبح الکذب ...الخ ، ص۱۰۷۷ ، حدیث : ۶۶۳۷