کی نشانیوں پریقین نہ ہویاوہ جوغیرمُسْلِم ہواوراللہعَزَّ وَجَلَّ کاجھوٹ کی مذمَّت میں اس طرح کاکلام فرمانا ، نہایت ہی سخت تنبیہ ہے ۔ (1)
نیکیوں میں دل لگے ہر دم بنا عامِلِ سُنَّت اے نانائے حُسین!
جُھوٹ سے بُغْض و حَسد سے ہم بچیں کیجئے رحمت اے نانائے حُسین!(2)
ایمان کمزورکردینے والامَرض :
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اندازہ لگائیے !جُھوٹ بولنے والے کی قرآنِ پاک میں کیسی مذمَّت بیان فرمائی گئی ہے ۔ بار بارجھوٹ بولنا ایمان کی کمزوری پر دلالت کرتااور جھوٹے شَخْص کے باطِنی بِگاڑ کا بھی سبب بنتا ہے ، جُھوٹ ایک ایسا مَرَض ہے جواِیمان کو کمزوروناتواں کرتاچلاجاتاہے ۔ جُھوٹ کامَرَض لاحِق ہونے کااندازبھی نِرالااورغیرمَحْسُوس ہوتاہے ، انسان ہربارجھوٹ بولتے ہوئے یہی سوچتاہے کہ ایک بارجُھوٹ بولنے سے کون سابڑانُقصان ہو جائے گا ۔ حالانکہ مُعاشَرے میں بگاڑ عُمُوماًجھوٹ بولنے کی وجہ سے ہی ہوتا ہے ۔ بکثرت جھوٹ بولنے والااللہعَزَّ وَجَلَّکے ہاں بہت بڑاجھوٹالکھ دیاجاتااورجہنَّم کامستحق ہوجاتاہے ۔ آئیے جھوٹ کی مذمت پرمشتمل تین فرامین مصطفٰے سنتے ہیں ۔
جھوٹ کی مَذمَّت پرمشتمل تین فرامین مصطفٰے :
(1)…ارشادفرمایا : سچ بولنانیکی ہے اورنیکی جَنَّت میں لے جاتی ہے اورجھوٹ بولنافِسْق وفُجُور( گناہ) ہے اوریہ دوزخ میں لے جاتا ہے ۔ (3)
________________________________
1 - تفسیر کبیر ، پ۱۴ ، النحل ، تحت الایة : ۱۰۵ ، ۷ / ۲۷۲ملتقطا
2 - وسائل بخشش مرمم ، ص۲۵۸
3 - مسلم ، کتاب الادب ، باب قبح الکذب ...الخ ، ص۱۰۷۷ ، حدیث : ۶۶۳۷