کھانا نہیں کھایا تھا) ۔ تویہ جُھوٹ ہوا ، کیونکہ واقِع( حقیقت ) کے خِلاف ہے ۔ جھوٹ بولناایسی بُری عادت ہے کہ ہرمذہب میں اِسے بُرائی سمجھاجاتاہے ، دیْنِ اسلام نے اِس سے بچنے کی بہت تاکید کی ہے ، قرآنِ پاک نے کئی مقامات پر اس کی مَذمَّت بیان فرمائی اورجھوٹ بولنے والوں پر خُدا کی لَعْنت بھی ہے ۔ چنانچہ
قرآن میں جھوٹ کی مذمَّت :
(1)…پارہ17 ، سُوْرَۃُ الْحَجَّ ، آیت نمبر30 میں ارشادہوتاہے :
وَ اجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِۙ(۳۰) ( پ۱۷ ، الحج : ۳۰) ترجمۂ کنزالایمان : اوربچو جھوٹی بات سے ۔
(2)…پارہ14 ، سُوْرَۃُ الْنَّحْل ، آیت نمبر105 میں اِرْشادِباری تعالیٰ ہے :
اِنَّمَا یَفْتَرِی الْكَذِبَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِۚ-وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ(۱۰۵) ( پ۱۴ ، النحل : ۱۰۵)
ترجمۂ کنزالایمان : جھوٹ بُہتان وہی باندھتے ہیں جواللہکی آیتوں پرایمان نہیں رکھتے اوروہی جُھوٹے ہیں ۔
صَدْرُالاَفاضِل حضرتِ علّامہ مَوْلانامُفْتی سیِّدمحمدنَعیمُ الدِّین مُرادآبادیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : جُھوٹ بولنااوراِفْتِرا کرنا( یعنی بُہتان لگانا) بے اِیمانوں ہی کا کام ہے ۔ (1) حضرت سیِّدُناامامفَخْرُالدِّینمحمدبن عُمَررازیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : یہ آیتِ مُقَدَّسَہ اِس بات پرقَوِی دلیل ہے کہ جُھوٹ تمام کبیرہ گُناہوں میں سب سے بڑا گُناہ اور بَد تَرین بُرائی ہے ، کیونکہ جُھوٹ بولنے اورجُھوٹاالزام لگانے کی جُرأت وُہی شَخْص کرتاہے ، جسے اللہعَزَّ وَجَلَّ
________________________________
1 - خزائن العرفان ، پ۱۴ ، النحل ، تحت الآیہ : ۱۰۵