Brailvi Books

اسلاف کا اندازِ تجارت
56 - 67
زکوٰۃ کی ادائیگی کی حکمتیں
(1)سخاوت انسان کاکمال ہے اور بخل عیب۔اسلام نے زکوٰۃ کی ادائیگی جیسا پیارا عمل مسلمانوں کو عطا فرمایاتاکہ انسان میں سخاوت جیساکمال پیدا ہواور بخل جیساقبیح عیب اس کی ذات سے ختم ہو۔
(2)جیسے ایک ملکی نظام ہوتاہے کہ ہماری کمائی میں حکومت کابھی حصہ ہوتاہے جسے وہ ٹیکس کے طور پر وصول کرتی ہے اور پھر وہی ٹیکس ہمارے ہی مفاد میں یعنی ملکی انتظا م پر خرچ ہوتاہے بلا تشبیہ ہمیں مال ودولت اور دیگرتمام نعمتوں سے نوازنے والی ہمارے ربّ عَزَّوَجَلَّ ہی کی پیاری ذات پاک ہےاور زکوٰۃ اللہ عَزَّوَجَلَّ  کا حق ہے ، جو ہمارے ہی غرباء پر خرچ کیا جاتاہے۔
(3) ربّ عَزَّوَجَلَّچاہتاتو سب کو مال ودولت عطا فرماکر غنی کردیتا لیکن اس کی مشیت ہے کہ اس نے اپنے ہی بندوں میں بعضوں کو امیر اور دولت مندکیا اور بعضوں کو غریب رکھااور امیروں یعنی صاحبِ نصاب پر زکوٰۃ کی ادائیگی لازم کردی تاکہ اس سے امیروں اور غریبوں میں محبت وانسیّت اور باہمی امداد کا جذبہ پیدا ہو اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نعمت کو سب مل بانٹ کر کھائیں اور اس کا شکرادا کریں۔
(4)شریعت نے زکوٰۃ فرض کرکے کوئی انہونی چیز فرض نہیں کی بلکہ اگر ہم اپنے اطراف میں غوروفکر کریں تو زکوٰۃ کی حقیقت ہر جگہ موجود ہے۔ جیسے کہ پھلوں کا گودا انسان کے لیے ہے مگر چھلکا جانوروں کا حق ہے۔گندم میں پھل ہمارا حصہ مگر