بھوسہ جانوروں کا ، گندم میں بھی آٹا ہمارا ہے تو بھوسی جانوروں کی۔ہمارے جسم میں بال اور ناخن وغیرہ کا حدِّ شرعی سے بڑھنے کی صورت میں علیحدہ کرنا ضروری ہے کہ یہ سب جسم کی زکوٰۃ یعنی اضافی چیزمَیل ہیں۔بیماری تندرستی کی زکوٰۃ، مصیبت راحت کی زکوٰۃ ، نمازیں دنیاوی کاروبار کی گویا زکوٰۃ ہیں۔
(5) اگر ہر وہ شخص جس پر زکوٰۃ فرض ہے زکوٰۃ کی ادائیگی کا التزام کرلے تو مسلمان کبھی دوسروں کے محتاج نہ ہوں گے۔ مسلمانوں کی ضرورتیں مسلمانوں سے ہی پوری ہوجائیں گی اور کسی کو بھیک مانگنے کی بھی حاجت نہ ہوگی۔(1)
بہر حال دولت کو تجوریوں میں بند کرنے کے بجائے زکوٰۃ و صدقات کی صورت میں راہِ خدا میں خرچ کریں ورنہ یقین کیجئے کہ زکوٰۃ ادا نہ کرنا آخرت کے دردناک عذاب اور دنیا میں معاشی بدحالی کا سبب بن سکتا ہے۔آیئے ہم سب مل کراِرتکازِ دولت (Concentration of wealth)کے اس سلسلے کو ختم کرنے اور دل کھول کر راہِ خدا اورنیکی کے کاموں میں مال خرچ کرنے کی نیت کریں پھر دیکھئے گا معیشت بھی ترقّی کرے گی، لوگوں کی قوّتِ خریدبھی بڑھے گی اور معاشی نظام میں بھی خوشحالی آئے گی۔اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ
تعارف دعوتِ اسلامی
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ! اس پُر فتن دور میں تبلیغ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… رسائل نعیمیہ، ص۲۹۸، بتصرف