Brailvi Books

اجنبی کا تحفہ
19 - 32
 دن روتے روتے گھنٹوں  بیت جاتے مگر میرے اطراف پھیلی ہوئی سکوت کی چادر نے جلد ہی میری توجہ اپنی جانب مبذول کر کے میرے اشکوں  کی روانی کو تھمنے پر مجبور کر دیا، شاید میرا یہ بتانا کوئی نئی بات نہیں  کہ وادیٔ عصیاں  میں  بھٹکنے والے ہزارہا گناہگاروں  کی طرح مجھے بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عطا کردہ توفیق اورامیرِ اہلسنت کے پُرتاثیر بیان کی برکت سے گناہوں  بھری زندگی سے نَجات مل گئی۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ میں  نے بھی امیرِ اہلسنت کی غلامی کا پٹہ اپنے گلے میں  ڈال لیا اور دعوتِ اسلامی کا پیارا پیارا مدنی ماحول اپنا کر صلوۃ و سنّت کی راہ پر گامزن ہو گیا۔ تادمِ تحریر اللہ عَزَّوَجَلَّ کے فضل و کرم سے ذیلی مشاورت کے تحت مَدَنی کاموں  کی دھومیں  مچارہا ہوں۔
 اللہ عَزَّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری بے حسا ب مغفِرت ہو۔
صلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب!	صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد
{8}بَدمعاش کیسے سدھرا؟
	گُلْزَارِ طیبہ (سرگودھا پنجاب) کے علاقے اسٹیلائٹ ٹاؤن کے رِہائشی اسلامی بھائی کے تحریری مکتوب کا خلاصہ ہے کہ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے قبل میں  گناہوں  کے گہرے سمندر میں  سکون کے موتیوں  کا متلاشی تھا مگر عصیاں  کے نشے میں  مدہوش مجھ جیسے نادان کو اس بات کا اندازہ نہ تھاکہ گناہوں