المحرم اذا دخل بیتا قد اجمر فیہ فطال مکثہ حتی علق ثوبہ لا یلزمہ شیء ولو اجمرثیابہ بعد الاحرام فعلیہ الجزاء لان الاجمار اذا کان فی البیت فعین الطیب لم یتصل بثوبہ ولاببدنہ انما نال رائحتہ فقط بخلاف ما اذا اجمر ثیابہ فان عین الطیب قد علق بثیابہیعنی امام محمد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الصَّمَد سے مروی ہے کہ اگر مُحرم ( احرام والا) ایسے کمرے میں داخل ہو جسے دھونی دی گئی ہو اور وہاں کافی دیر ٹھہرا رہا یہاں تک کہ بو اس کے کپڑوں میں بس گئی تو اس پر کچھ لازم نہیں اور اگر اپنے کپڑوں کو احرام کی نیت کے بعد دھونی دی تو کفارہ واجب ہے کیونکہ دھونی دینا جب کمرے میں ہو تو عین خوشبو نہ تو اس کے بدن سے متعلق ہوئی ہے اور نہ ہی کپڑوں سے بلکہ اس نے تو صرف بو پائی ہے بخلاف اپنے کپڑوں کو دھونی دینے کے کہ اس صور ت میں عین خوشبو اس کے کپڑوں میں بس گئی ہے۔
علامہ سید احمد طحطاوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی حاشیۃ الطحطاوی علی الدر( جلد ۱، ص ۵۱۹) میں فرماتے ہیں :ولا بأس ان یجلس فی حانوت عطار او موضع یتبخر فیہ الا انہ یکرہ ان کان الجلوس ھناک لاشتمام الرائحۃ یعنی عطر فروش کی دکان یا ایسی جگہ جہاں دھونی دی جارہی ہو بیٹھنے میں حرج نہیں ، لیکن اگر وہاں بیٹھنا خوشبو سونگھنے کی نیت سے ہو تو مکروہ ہے۔
واضح ہوا کہ علماء نے جہاں یہ فرمایا کہ ’’ خوشبو میں قصد اور عدم قصد برابر ہیں ‘‘ وہاں مراد خوشبو کا عین یا اس کی ذات کا لگنا ہے، جبکہ خوشبو کے اثر یعنی بو کے لئے اس کا قصد یا خوشبو کا عادۃً اسی طرح استعمال کیا جانا ضروری ہے جیسا کہ عود کی دھونی بے قصد خوشبو بس جائے تو کچھ نہیں۔ یہ فرق واضح رہے کہ خطا کا مقام ہے۔