Brailvi Books

احرام اور خوشبودار صابن
8 - 30
کرلیاجائے کہ جسے رگڑنے کے ذریعے خوشبو حاصل ہوسکتی ہو تو بے شک اس کا حکم عنبر وغیرہ کی طرح ہوگا کیونکہ علت تو یہی خوشبو ہے۔
(۲)جسم یا لباس پر خوشبو کا عَین لگے بغیر صرف بُو سے ’’کفارہ‘‘ کے لئے ایک قید اور ضروری ہے کہ اگر خوشبو کا انتفاع (نفع لینا) دھویں کے ذریعے ہو، بایں صورت کہ اس کا عین بطورِ خوشبو استعمال نہ کیا جاتا ہو، تو اس صورت میں انتفاع کی نیت و قصد ضروری ہے، ورنہ بے نیت و قصد صرف جسم یا لباس میں بوبس جانے سے کچھ نہیں ۔
علامہ ابن نُجَیم مصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی البحرالرائق( ج ۳، ص ۴) میں فرماتے ہیں : ولافرق بین ان یلتزق بثوبہ عینہ اورائحتہ فلذا صرحوا انہ لو بخر ثوبہ بالبخور فتعلق بہ کثیرفعلیہ دم وان کان قلیلا فصدقۃ لانہ انتفاع بالطیب بخلاف ما اذا دخل بیتا قد اجمر فیہ فتعلق بثیابہ رائحۃ فلا شئی علیہ لانہ غیرمنتفع بعینہیعنی اس میں کوئی فرق نہیں کہ محرم کے کپڑے کے ساتھ خوشبو کا عین متعلق ہو یا اس کی بو، اسی وجہ سے علماء نے صراحت کی کہ اگر کسی نے اپنے کپڑوں کو خوشبو سے دھونی دی اور اس کی وجہ سے کثیر خوشبو متعلق ہوگئی تو ’’ دم ‘‘ ہو گا اوراگر قلیل ہو تو ’’صَدَقہ‘‘ کیونکہ یہ خوشبو سے نفع اٹھانا ہے،بخلاف اگر کوئی ایسے کمرے میں داخل ہوا جس میں دھونی دی گئی ہو اور اس کے کپڑے میں بو بس جائے تو کچھ نہیں کیونکہ یہ اس کے عین کے ساتھ نفع اٹھانا نہیں۔
یہی عبارت علامہ سید احمد طحطاوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی نے حاشیۃ الطحطاوی علی الدر (ج ۱، ص ۵۲۰) ، علامہ محمد بن سعید عبدالغنی علیہ رحمۃُ اللہِ الغنی نے اِرشاد السّاری( ص ۳۱۲) اور علامہ شامی قُدِّسَ سِرُّہُ السَّامِی   نے رَدُّالمُحتار( ج ۳ ص ۴۹۶) میں نقل فرمائی۔
مبسوط للسرخسی (ج۴، ص ۱۲۳) میں ہے :عن محمد رحمہ اللہ ان