بدن پر استعمال ہونے والی اشیاء
مَلِکُ العلماء ابوبکر کاسانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّورَانِی بَدَائِع الصَّنَائع(ج ۲،ص۱۹۰ مطبوعہ کوئٹہ)میں علامہ سید احمد طحطاوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی حاشیۃ الطحطاوی علی الدر( ج ۱، ص ۵۲۰) میں اور فتاویٰ عالمگیری( ج ۱، ص ۲۴۰) میں ہے :قال اصحابنا ان الاشیاء التی تستعمل فی البدن علی ثلاثۃ انواع نوع ھو طیب محض معد للتطیب بہ کالمسک والکافور والعنبر وغیرذلک وتجب بہ الکفارۃ علی ای وجہ استعمل حتی قالوا لوداوی عینہ بطیب تجب علیہ الکفارۃ لان العین عضوکامل استعمل فیہ الطیب فتجب الکفارۃ و نو ع لیس بطیب بنفسہ ولا فیہ معنی الطیب ولا یصیرطیبا بوجہ کالشحم فسواء اکل اوادھن اوجعل فی شقاق الرجل لاتجب الکفارۃ ونوع لیس بطیب بنفسہ لکنہ اصل الطیب یستعمل علی وجہ الطیب ویستعمل علی وجہ الادام کالزیت والشیرج فیعتبر فیہ الاستعمال فان استعمل استعمال الادھان فی البدن یعطی لہ حکم الطیب وان استعمل فی مأکول اوشقاق رجل لایعطی لہ حکم الطیب کالشحم اہ یعنی ہمارے اصحاب نے فرمایا : بدن پر استعمال ہونے والی اشیاء تین قسم کی ہیں ، خوشبوئے محض کہ جو خوشبو حاصل کرنے کے لیے ہی تیار کی گئی، جیسے مشک، کافور، عنبر وغیرہ ، اس میں کفارہ واجب ہوگا، خواہ کسی طور پر اسے استعمال کیا گیا ہو۔ حتی کہ فقہاء نے فرمایا کہ اگر کسی نے خوشبو سے اپنی آنکھ کا علاج کیا ، تو اس پر کفارہ واجب ہوگا، کیونکہ آنکھ ایک مکمل عُضو ہے اور اس میں خوشبو کو استعمال کیا گیا ہے، لہٰذا کفارہ لازم ہوگا۔دوسری قسم وہ کہ جو بذاتِ خود خوشبو نہ ہو، نہ ہی اس میں خوشبو والا معنیٰ پایا جاتا ہو جیسا کہ چربی تو اس میں کھانا یا بطورِ تیل استعمال کرنا یا پیروں کی پھٹن پر لگانا سب برابر ہے اور اس