Brailvi Books

احرام اور خوشبودار صابن
29 - 30
خوشبو ہے اور اس کی مہک بدن اور لباس میں بَس بھی جاتی ہے۔ چنانچہ اگر اس کی مہک لباس میں بس گئی اور کثیر ہے اور چار پہر یعنی بارہ گھنٹے تک اس کپڑے کو پہنے رہا تو ’’ دم‘‘ ہے ، ورنہ ’’صدقہ ‘‘اور اگر خوشبو تھوڑی ہے اور کپڑے میں ایک بالشت یا اس سے کم میں لگی ہو اور چار پہر تک اسے پہنے رہا تو ’’صدقہ‘‘ اور اس سے کم پہنا، تو ایک مٹھی گندم دینا واجب ہے۔اور اگر خوشبو قلیل ہے، لیکن بالشت سے زیادہ حصے میں ہے، تو کثیر کا ہی حکم ہے یعنی چار پہر میں ’’ دم ‘‘ اور کم میں ’’ صدقہ‘‘۔
شرح اللباب ( ص ۳۲۰) میں ہے:اذا کان الطیب فی ثوبہ شبرا فی شبر ای مقدارھما طولا وعرضا فھو داخل فی القلیل فان مکث ای دام یوما فعلیہ صدقۃ او اقل منہ فقبضۃ کذا فی المجرد والفتحیعنی اگر کسی کپڑے میں خوشبو بالشت دربالشت لگی یعنی طول و عرض میں ، تو وہ قلیل میں داخل ہے، پس اگر وہ ٹھہرا رہا یعنی دن بھر پہنا رہا، تو اس پر صدقہ ہے۔اور اس سے کم ہے تو ایک مٹھی کھانا۔ ایسا ہی مُجرَّد اور فتح القدیر میں ہے۔
ردالمحتار ( ج ۳، ص ۵۷۵) میں ہے: یمکن اجراء التوفیق المار ھنا ایضا بان الطیب اذا کان فی نفسہ کثیرا لزم الدم وان اصاب من الثوب اقل من شبر وان کان قلیلا لا یلزم حتی یصیب اکثر من شبر فی شبر وربما یشیرالیہ قولھم لوربط مسکا اوکافورا اوعنبراکثیرا فی طرف ازارہ او ردائہ لزمہ دم ای ان دام یوما ولو قلیلا فصدقۃ یعنی گزشتہ تطبیق کو یہاں بھی جاری کرنا ممکن ہے کہ اگر وہ فی نفسہ کثیر ہو تو ’’دم‘‘ لازم ہوگا۔ اگرچہ کپڑے میں بالشت سے زیادہ کو نہ لگے اور اگر خوشبو قلیل ہو تو دم لازم نہیں جب تک بالشت در بالشت سے زیادہ کپڑے کو نہ لگے