Brailvi Books

احرام اور خوشبودار صابن
28 - 30
کفارہ ، ورنہ کچھ نہیں۔اور اگر خوشبو کسی خاص شے کے ساتھ مختص( خاص)ہے اور دوسری جگہ جب تک مہک نہ دے اسے خوشبو نہیں کہا جاتا۔ جیسے الائچی کہ منہ کی خوشبو کے لیے خاص ہے اور اگر کوئی اسے کپڑے میں باندھ لے یا داڑھی میں اٹکالے ، تو کوئی اسے خوشبو کا استعمال نہیں کہتا، تو اس صورت میں کچھ نہیں ، اس کا صریح جزیہ عود کو کپڑے میں باندھنے کا ’’ خوشبو کے استعمال سے مراد ‘‘کی بحث میں گزر چکا۔
(۱۰) صابن کو بنیت خوشبو استعمال کرنا 
صابن یا خوشبو دار واشنگ پاؤڈر وغیرہ کو خوشبو کے قصد سے استعمال کرنا مکروہ ہے، جیسا کہ ٹوتھ پیسٹ کے بیان کے ضمن میں تمباکو کے خوشبودار قوام کے بارے میں امام اہلسنّت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن  کے حوالے سے گزرا۔ بلا قصد و نیتِ خوشبو اس کے استعمال کا حکم بھی ماسبق میں و اضح ہوچکا۔
(۱۱)ہاتھ میں مہک آنا
اس میں بھی وہی تفصیل ہوگی ، جو ٹشو پیپر کے بیان میں گزری کہ مثلاً کسی ایسے شخص سے مُصافحہ کیا جس نے عطر لگایا تھا اور ہاتھ میں اگرخوشبو کا عین لگا تو’’ کفارہ ‘‘ ہوگا اور اگر عین نہ لگا بلکہ ہاتھ میں صرف مہک آئی، تو کوئی کفارہ نہیں کہ اس محرم نے خوشبو کے عین سے نفع نہ اٹھایا، ہاں اس کو چاہیے کہ ہاتھ کو دھو کر اس مہک کو زائل کردے۔
(۱۲) گلاب کے ہار
احرام کی نیت کے بعد گلاب کا ہار نہ پہنا جائے، کیونکہ گلاب کا پھول خود عین