اور شاید اسی کی طرف فقہاء کا قول اشارہ کرتا ہے کہ اگر محرم نے مشک یا کافور یا عنبر بہت زیادہ اپنے تہبندیا چادر کے کنارے میں باندھی ، تو دم لازم ہوگا۔ یعنی اگر دن بھر پہنا رہا اور اگر دن سے کم ہے، تو صدقہ واجب ہے۔اور اگر یہ ہار پہننے کے باوجود کوئی مہک کپڑوں میں نہ بسی، تو کوئی کفارہ نہیں اب اس کی حیثیت عود کو کپڑے میں باندھنے کی طرح ہوگئی کہ جب تک اس کی مہک کپڑوں میں نہ آئے، کفارے کا حکم نہیں ، جیسا کہ ’’خوشبو کے استعمال سے مراد‘‘ کے بیان میں گزرا۔ لہٰذا محرم کو چاہیے کہ طیارے میں سوار ہونے کے بعد احرام کی نیت کرے تاکہ اس ناجائز کام سے بچ جائے اور اگر خوشبو لگ جائے تو اس کو فوراً دھولے اور کفارے کی جو بھی صورت واضح ہو اس کے مطابق عمل کرے۔
ھذا ماظھرلنا واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
۲ذوالقعدہ ۱۴۲۳ھ بمطابق ۲۶ جنوری۲۰۰۳ء
اراکین مجلسِ تحیقاتِ شرعیہ(دعوتِ اسلامی)
{تصدیقات}