Brailvi Books

احرام اور خوشبودار صابن
27 - 30
بکحل مطیب مرۃ او مرتین فعلیہ الصدقۃ وان کان مرارا کثیرۃ فعلیہ دم یعنی امام محمد علیہ رَحْمَۃُ اللہ الاحدسے، اس شخص کے بارے میں کہ جس نے خوشبو دار سرمہ ایک یا دو مرتبہ لگایا، مروی ہے کہ اس پر ’’ صدقہ‘‘ ہے اور اگر کئی مرتبہ لگایا ، تو اس پر ’’دم‘‘واجب ہے۔
بہار ِ شریعت( ص ۸۶ حصہ ششم) میں ہے :’’خوشبود ار سرمہ ایک یا دو بار لگایاتو ’’صدقہ‘‘ دے، اس سے زیادہ میں ’’دم‘‘ ہے اور جس سرمہ میں خوشبو نہ ہو، اس کے استعمال میں حرج ( گناہ ) نہیں ، جب کہ بضرورت ہو اور بِلا ضرورت مکروہ۔‘‘
(۸) ٹوتھ پیسٹ
ٹوتھ پیسٹ میں اگر آگ کا عمل ہوتا ہے، جیسا کہ یہی مُتَبادِر ہے ، جب تو حکم کفارہ نہیں ، جیسا کہ ماقبل تفصیل سے گزر چکا۔ لیکن اس میں عموماً منہ کی بدبو دور کرنے اور خوشبو حاصل کرنے کا قصد ہوتا ہے، لہٰذا اس کا استعمال ’’کراہیت‘‘ سے خالی نہیں۔
امام اہلسنّت ، مجدد دین و ملت ، پروانہ شمع رسالت، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فتاویٰ رضویہ ( ج ۴، ص ۶۸۹) میں فرماتے ہیں :تمباکو کے قِوام میں خوشبو ڈال کر پکائی گئی ہو، جب تو اس کا کھانا مطلقاً جائز ہے اگرچہ خوشبو دیتی ہو، ہاں خوشبو ہی کے قصد سے اسے اختیار کرنا کراہت سے خالی نہیں۔
(۹) کھانے والی خوشبو لگانا 
اگر وہ خالص خوشبو ہے ، تب تو اس کا کھانا اور لگانا برابر ہے، جب کہ عرف و عادت میں اس کے دونوں طرح استعمال کو خوشبو کہاجاتا ہو، جیسے مُشک،زعفران وغیرہ۔اور اگر خالص خوشبو نہیں ، جیسے زیتون کا تیل ، اگر اس کا بطورِ خوشبو استعمال ہو، تو