Brailvi Books

احرام اور خوشبودار صابن
26 - 30
ہیں :ومسہ ای لمس الطیب ان لم یلتزق ای شیء من جرمہ الی بدنہ فانہ حینئذ نوع من استعمالہ بخلاف اذا تعلق بہ ریحہ وعبق بہ فوحہ فانہ لا تضرہ اھیعنی (احرام کے مکروہات میں سے) اس یعنی خوشبو کا چھونا ( بھی) ہے ۔ بشرطیکہ وہ چمٹے نہیں یعنی اس خوشبو کے جرم میں سے کوئی شے اس کے بدن کو نہ چمٹے کیونکہ اس وقت یہ خوشبو کے استعمال کی ایک قسم قرار پائے گی بخلاف اس کے کہ جب اس کے ساتھ خوشبو کی مہک متعلق ہوجائے اور ( بغیر جرم کے) خوشبو لگے اور بھڑ کے تو یہ اس کے لیے مُضر( نقصان دہ ) نہیں ۔ اس کے بارے میں تفصیلی بیان ’’خوشبو کے استعمال سے مراد‘‘ کے عنوان کے تحت گزر چکا ہے۔
(۷) سرمہ
سرمہ اگر بغیر خوشبو کا ہے توسنت یا ضرورت کی وجہ سے اس کے استعمال میں کوئی حرج ( گناہ ) نہیں لیکن محرم کے لیے بلا ضرورت ا س کا استعمال مکروہ ہے اور بظاہر ’’کراہتِ تنزیہی‘‘ ہے اور عموماً سرمے میں خوشبو نہیں ہوتی ہیکما ھوالمشاھداور اگر سرمہ خوشبودار ہو، تو ایک یا دو بار استعمال میں ’’صَدَقہ‘‘ ہے اور تین یا اس سے زائد میں ’’دم‘‘۔
’’ شرح اللُّباب ‘‘ ( ص ۱۲۲)میں ہے:والاکتحال بما لا طیب فیہ ای عملا بالسنۃ وتقویۃ للباصرۃ لا قصد الزینۃیعنی ایسا سرمہ لگانا مُباح ( جائز ) ہے کہ جس میں خوشبو نہ ہو۔ یعنی سنت پر عمل کی نیت سے اور بصارت ( بینائی) کی تقویت کے لیے، نہ کہ قصد ِ زینت سے۔
عالمگیری ( ج ۱ ، ص ۲۴۱) میں ہے :عن محمد علیہ الرحمۃ فیمن اکتحل