Brailvi Books

احرام اور خوشبودار صابن
25 - 30
(۵) خوشبو اورعطریات میں فرق
خوشبو کی تعریف اور اس کی اقسام پر ابتدائی گفتگو سے ظاہر ہوا کہ خوشبو کئی اقسام کی ہوتی ہے، کھانے والی، بدن پر لگانے والی اور سر یا داڑھی پر لگانے والی وغیرہ جب کہ عِطرعادۃً لباس پر ہی استعمال کیا جاتا ہے، یعنی ہر خوشبو کو عطر نہیں کہہ سکتے۔ جیسے الائچی لیکن ہر عطر خوشبو ہے، لہٰذا ان کے مابین عُموم خصوص مطلق کی نسبت ہے، خوشبو اعم ہے اور عطر اخص۔


(۶)خوشبو دار ٹشو پیپر 
خوشبودار ٹشو پیپر میں اگر خوشبو کا عین موجودہے یعنی وہ پیپر خوشبو سے بھیگا ہوا ہے ، تو اس تری کے بدن پر لگنے کی صورت میں جو حکم خوشبو کا ہوتا ہے، وہی اس کا بھی ہوگا۔ یعنی اگر قلیل ہے اور عضوِ کامل کو نہ لگے، تو صدقہ، ورنہ اگر کثیر ہو یا کامل عضو کو لگ جائے، تو دم ہے۔ اور اگر عَین موجود نہ ہو، بلکہ صرف مہک آتی ہو، تو اگر اس سے چہرہ وغیرہ پونچھا اور چہرے یا ہاتھ میں خوشبو کا اثر آگیا، تو کوئی ’’کفارہ‘‘نہیں کہ یہاں خوشبو کا عین نہ پایا گیا اور ٹشو پیپر کا مقصودِ اصلی خوشبو سے نفع لینا نہیں۔
ھندیہ ( عالمگیری ج ۱، ص ۲۴۱) میں ہے:لودخل بیتا قد اجمرفعلق بثوبہ رائحۃ فلا شیء علیہ لانہ غیرمنتفع بعینہیعنی اگر کوئی ایسے کمرے میں داخل ہوا جس کو دھونی دی گئی اور اس کے کپڑے میں مہک بس گئی ، تو کوئی کفارہ نہیں ، کیونکہ اس نے خوشبو کے عین سے نَفع نہیں اٹھایا۔
سیدی ملا علی قاری  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی نے شرح اللباب ( ص ۱۲۱) میں خوشبو کا جرم لگے بغیر، صرف مہک لگنے کے جواز کے بارے میں صراحت فرمائی ہے، چنانچہ فرماتے