Brailvi Books

احرام اور خوشبودار صابن
24 - 30
اور اسی سے معلوم ہوتا ہے کہ گیلی شکر ( یعنی میٹھا شربت) اور اس کی مثل ، گلاب کے پانی کے ساتھ ملایا جائے، تو اگر عرق گلاب مغلوب ہو، جیسا کہ عادۃً ایسا ہی عام طور پر ہوتا ہے ، تو اس میں کوئی کفارہ نہیں ، اور علامہ ملا علی قاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی   نے اسی کی مثل طَرابلسی سے نقل کیا اور اسے برقرار رکھا اور اس کی تائید کی اور اس کی اصل محیط میں ہے۔
علامہ عبدالغنی مکی  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی مزید فرماتے ہیں :انماحملناعبارتہ علی ما اذا کان الطیب جامدا لئلا تناقض عبارتہ ما مرعن المحیط لان الضمیر فی قولہ ولوخلطہ علی ما ھو المتبادر من عبارتہ عائد الی الزعفران  ویظھر فرق بین المائع والجامد  لان المائع من الطیب اذا کان مغلوبا یصیرمستھلکا فی المشروب لکمال امتزاجہ بہ بخلاف الجامد لبقاء عینہ فلذا وجب فی المغلوب صدقۃ یعنی ہم نے فتح القدیر کی  عبارت کو اس پر محمول کیا، جب کہ خوشبو جامد ( ٹھوس) ہو تا کہ ان کی عبارت اس سے نہ ٹکرائے جو ’’محیط‘‘ کے حوالے سے گزری۔ کیونکہ ان کے قول ’’ خَلَطَہ ‘‘ میں ضمیر کا زعفران کی طرف عائد ہونا (لوٹنا) ہی ان کی عبارت سے مُتبادر ( واضح ) ہے۔ اور مائع اور ٹھوس میں فرق ظاہر ہے کیونکہ مائع خوشبوجب مغلوب ہو تو وہ مائع میں کمالِ امتزاج ( ملنے ) کی وجہ سے مُستھلک(فنا ) ہو جاتی ہے، بخلاف ٹھوس کے کہ اس کا عین باقی رہتا ہے، اسی وجہ سے ٹھوس کے مغلوب ہونے میں بھی ’’صدقہ‘‘ واجب ہوتا ہے۔
لہٰذا اس محلول سے بھی خوشبو کا حکم ساقط ہوگیا۔ شیمپو میں بھی اگر مائع صورت میں خوشبو ملائی جاتی ہے تو ظاہر یہی ہے کہ وہ قلیل ہوتی ہے لہٰذا اس صورت میں شیمپو میں بھی کفارہ نہیں۔