(۳) خوشبو دار واشنگ پاؤڈر
واشنگ پاؤڈر چاہے ہاتھ دھونے کے لیے استعمال ہو یا کپڑے یا برتن دھونے کے لیے، اس میں کوئی کفارہ نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ اس کی تیاری میں بھی آگ کاعمل کیا جاتا ہے اور اس کے بعد خوشبو ملائی جاتی ہے، نیز عُرف و عادت میں اس سے خوشبو کا حصول بھی مقصود نہیں ہوتا، مزید اس پر تَعاملِ اُمت بھی ہے۔ سوال نمبر ۲ اور ۳ کا جواب بھی اسی کے ضمن میں آگیا اور بالفرض اگر پکا نہ ہو اور خوشبو ملی ، تو وہی حکم ہوگا جو پیچھے اشنان کا گزرا۔
(۴)فرش کی دھلائی
مسجدین کریمین کے فرش کی دھلائی میں اگر محرم کے پاؤں سَن جائیں ، تو کوئی کفارہ نہیں کہ یہ خوشبو نہیں۔ اور بالفرض اگر یہ محلول خالص خوشبو بھی ہوتا ، تو بھی کفارہ واجب نہ ہوتا، کیونکہ ظاہر یہ ہے کہ یہ محلول پہلے پانی میں ملایا جاتا ہے اور پانی اس محلول سے زائد اور یہ محلو ل مغلوب ہوتا ہے اور اگر مائع خوشبو کو کسی مائع میں ملایا جائے اور مائع غالب ہو، تو کوئی جزاء نہیں ہوتی۔ کتبِ فقہ میں جو مشروبات کا حکم عموماً تحریر ہے اس سے مراد ٹھوس خوشبو کا مائع میں ملایا جانا ہے۔
علامہ حسین بن محمد عبدالغنی مکی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی ارشاد الساری ( ص ۳۱۶)میں فرماتے ہیں : ومنہ یعلم ان نحو السکرالمبلول اذاخلط بنحو ماء الورد فانہ اذاکان ماء الورد مغلوباکما ھوالغالب عادۃ لا جزاء فیہ ونقل الملا علی نحوہ عن الطرابلسی واقرہ وایدہ واصلہ من المحیطیعنی