کرتا ہے اور اس کا موجَب ’’صدقہ‘‘ ہے۔‘‘
اختلاف کی اصل یہ ہے کہ چونکہ امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے نزدیک جویں مارنے اور بال نرم کرنے کی صفت رکھنے کے ساتھ ساتھ، خطمی کا خوشبو ہونا بھی ثابت ہے، لہٰذا جِنایت(جرم) کا مل ہے اور ’’ جنایتِ کاملہ‘‘ کے نتیجے میں ’’دم‘‘ واجب ہوتا ہے۔جب کہ صاحِبَین رضی اللہ تعالٰی عنہما کے نزدیک چونکہ یہ خوشبو نہیں ، لہٰذا یہاں ’’جنایتِ قاصرہ‘‘ (نامکمل جرم)کا ثبوت ہوگا ور اس کا موجب ’’صدقہ‘‘ ہے۔
شیمپوسے سر دھونے کی صورت میں بھی بظاہر جنایتِ قاصرہ کا وجود ہی سمجھ میں آتا ہے کہ اس میں بھی آگ کا عمل ہوتا ہے۔ لہٰذا خوشبو کا حکم تو ساقط ہوگیا لیکن بالوں کو نرم کرنے اور جوئیں مارنے کی علت موجود ہے ، لہٰذا ’’صَدَقہ‘‘واجب ہونا چاہیے۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
یہ امر بھی قابلِ توجہ ہے کہ اگر کسی کے سر پر بال اور چہرے پر داڑھی نہ ہو تو کیا اب بھی حکم سابق ہی لگایا جائے گا؟بظاہر اس صورت میں کفارے کا حکم نہیں ہونا چاہیے کیونکہ حکم ممانعت کی علت بالوں کا نرم اور جوؤں کا ہلاک ہونا تھا اور مذکورہ صورت میں یہ علت مفقود ہے اور انتفاء علت( علت کا نہ ہونا) انتفاء معلول کو مُسْتلزم ( لازم کرنے والی)ہے لیکن اس سے اگر میل چھوٹے تو یہ مکروہ ہے کہ محرم کو میل چھڑانا مکروہ ہے۔اور ہاتھ دھونے میں اس کی حیثیت صابن کی سی ہے کیونکہ یہ مائع حالت میں صابن ہی ہے اوراس میں بھی آگ کا عمل کیاجاتاہے ۔اس کی مزید توضیح سوال نمبر۴کے جواب کے ضمن میں آئے گی ۔