حکم میں ہے۔
(۲)معطر شیمپو
شیمپو ( مائع صابن) اگر سریا داڑھی میں استعمال کیا جائے، تو خوشبو کی ممانعت کی علت پر غور کے نتیجے میں اس کی ممانعت کا حکم ہی سمجھ میں آتا ہے،بلکہ کفارہ بھی ہونا چاہیے ، جیسا کہ خطمی(خوشبودار بوٹی)سے سر اور داڑھی دھونے کا حکم ہے کہ یہ بالوں کو نرم کرتا ہے اور جویں مارتا ہے اور محرم کے لیے یہ ناجائز ہے۔
دُرمختار (ج ۳، ص ۴۹۸) میں ہے :’’غسل راسہ ولحیتہ بخطمی لانہ طیب اویقتل الھوام‘‘یعنی سر اور داڑھی کو خِطمی سے دھونا (حرام ہے) کیونکہ یہ خوشبو ہے یا جوؤں کو مارتا ہے۔‘‘اس عبارت کے تحت علامہ سید ابن عابدین شامی قُدِّسَ سِرُّہُ السَّامِی ردالمحتار میں ارشاد فرماتے ہیں :’’المراد الغسل بماء مزج فیہ کما فی القھستانی وقولہ لانہ طیب اشار الی الخلاف فی علۃ وجوب اتقائہ فالوجوب متفق علیہ وانماالخلاف فی علتہ وموجبہ فیتقہ عندالامام لان لہ رائحۃ طیبۃ وان لم تکن زکیۃ وموجبہ دم وعندھما لانہ یقتلہ الھوام ویلین الشعر وموجبہ صدقۃ یعنی خطمی سے ( سر یا داڑھی) دھونے سے مراد اس پانی سے دھونا ہے جس میں خطمی ملائی گئی ہو جیسا کہ قھستانی میں ہے اور ان کا کہنا :’’لانہ طیب‘‘ یہ خطمی سے بچنے کی علت میں اختلاف کی طرف اشارہ ہے اس سے بچنے پر تو سب کا اتفاق ہے لیکن اس کی علت و حکم میں اختلاف ہے۔ امام اعظم ابو حنیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے نزدیک محرم اس سے بچے گا کیونکہ اس کے لیے عمدہ خوشبو ہوتی ہے اگرچہ تیز نہیں اور اس کے استعمال کا موجَب ( لازمی ہونے والی شئے) ’’دم‘‘ ہوگا اور صاحبین رَحْمَۃُ اللہِ علیہما کے نزدیک کیونکہ یہ جویں مارتا اور بال نرم