Brailvi Books

احرام اور خوشبودار صابن
20 - 30
قالوا فیما لو جعل الزعفران فی الملح ان کان الزعفران غالبا فلا شیء علیہ  وفی المنتقی اذا غسل المحرم یدہ باشنان فیہ طیب فان کان اذا نظرالیہ قالوا ھذا اشنان فعلیہ صدقۃ  وان قالوا ھذا طیب فعلیہ دم انتھی دونوں عبارتوں کا خُلاصہ گزر چکا۔
اس کے بعد مُلا علی قاری  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی  فرماتے ہیں :ولیس فیھما مایفید التقیید بل مطلق یقید بما ذکرہ الزیلعی فیحمل علی غیرالمطبوخ فتأمل فانہ موضع الزللیعنی ان دونوں مسئلوں میں کوئی ایسی چیز نہیں ، جو امام زیلعی  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی   کے مسئلہ کی (غلبہ کے ساتھ) تقیید کا فائدہ دے۔ بلکہ یہ مسئلے ( طبخ وغیر طبخ کی قید سے)مطلق ہیں ، تو انہیں اس کے ساتھ مقید کیا جائے، جو امام زیلعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے ذکر کیا۔ لہٰذا ان کو غیرِ مطبوخ پر محمول کیا جائے۔غور کرلیجئے ، کیونکہ یہ خطا کا مقام ہے۔ (شرح اللباب ص ۳۱۷)والحمدللّٰہ رب العالمین
دوسری صورت 
دوسری صورت میں بھی اس صابن کے استعمال کا جواز ظاہر ہے، کیونکہ آگ کے عمل سے مراد ، حرارت کا پایا جانا ہے نہ کہ آگ کا وجودِ حقیقی، جیسا کہ آج کل الیکٹرونک آلات کے ذریعے حرارت پیدا کی جاتی ہے ، مثلاً جیسے ہیٹر وغیرہ پر چائے اور دیگر اشیاء پکائی یا گرم کی جاتی ہیں۔اب جیسا کہ ماقبل گزرا کہ صابن کو خوشبودار کرنے کے لیے چالیس ڈگری کی حرارت قائم رکھ کر خوشبو ملائی جاتی ہے، لہٰذا آگ کی تاثیر پائے جانے کی بناء پر مذکور صابن میں موجود خوشبو مُسْتَھلک (ہلاک شدہ) کے