شیء علیہ لانہ صارمستھلکا وعلی ھذا التفاصیل فی المشروبیعنی اگر کسی نے زعفران کھائی جو کہ کسی طعام یا کسی اور خوشبو کے ساتھ مخلوط تھی اور اسے آگ نے نہ چھوا ہو تو’’دم‘‘ لازم ہوگا۔ اور اگر آگ نے چھوا ہو، تو کوئی کفارہ نہیں۔کیونکہ وہ زعفران ہلاک (فنا) ہوگئی اور یہی تفصیل مشروبات میں ہے۔‘‘
علامہ حسن بن محمد سعید عبدالغنی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہ الغنیارشاد الساری ( ص ۳۱۶) میں فرماتے ہیں :فلا جزاء فیمایطبخ کالقھوۃ المذکورۃ وکدواء طبخ بھیل ونحوہ لانہ صارمستھلکایعنی جس شے کو پکالیا گیا ہو، اس میں کوئی کفارہ نہیں ، جیسا کہ مذکورہ قہوہ اور وہ دوا جس میں ھیل اور اس کی مثل کو پکالیا گیا ہو، کیونکہ وہ فنا ہوگئی ۔بلکہ اَشْنَان والا مسئلہ بھی عدم طبخ کے ساتھ مقید ہے ، شرح اللُّباب میں اس کی صراحت کی گئی ہے۔ چنانچہ ملا علی قاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی نے پہلے امام زیلعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کی عبارت نقل کی جو ماقبل میں گزری اور پھر اس کے بارے میں صاحبِ لباب کے حوالے سے نقل کیا کہقال المصنف رحمہ اللہ ولم یقید بالغلبۃ فی لزوم الدم فیحمل علی المقید والا فمخالف لما فی الفتح یعنی مصنف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے امام زیلعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کی عبارت کے بارے میں فرمایا، انہوں نے دم کے لزوم کو غلبہ کے ساتھ مقید نہیں کیا، پس اسے اس قید پر ہی محمول کیا جائے گا، ورنہ یہ فتح القدیر میں موجود مسئلے کے مخالف ہوگا۔(شرح اللباب ص ۳۱۷)
پھر ملا علی قاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی نے فتح القدیر کی عبارت نقل کی جو ’’خوشبو میں آگ کے عمل‘‘ کے تحت ردالمحتار کے حوالے سے نقل کی جاچکی ہے اور پھر اَشنان والا مسئلہ تحریر کیا۔ زیادتی فوائد کی غرض سے نقل عبارت میں مضائقہ نہیں چنانچہ فرمایا:وقد