پائی جائے تو کراہیت ہوگی پھر جب کراہیت مطلق کہی جائے تو وہ تحریم کے لیے ہوتی ہے تو ظاہر ااس سے گناہ گار ہونا لازم آتا ہے بلکہ زیادہ ظاہر یہ ہے کہ یہ خمیرہ آگ کے عمل کی وجہ سے مطبوخ کے ساتھ ملحق ہوگیا اور شرح سے یہ بات معلوم ہوچکی کہ مطبوخ میں کوئی کفارہ بھی نہیں اور نہ ہی کوئی کراہیت اور خمیرہ میں ملائی جانے والی خوشبو پر آگ نے عمل کرلیا، تو مناسب یہ ہے کہ خوشبو ہونے کا اصلاحکم نہ ہو۔
مزید یہ کہ خوشبودار مرہم یا دوا اگرچہ ماکول یا مشروب نہیں لیکن اس میں بھی آگ کا عمل ہونے یا نہ ہونے کا اعتبار ہے چنانچہ ملاّ علی قاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی شرح اللباب ( ص ۳۱۹) میں فرماتے ہیں :لو تداوی بالطیب ای المحض الخالص او بدواء فیہ طیب ای غالب ولم یکن مطبوخا لماسبق الخ یعنی اگر کسی نے خالص خوشبو کو بطورِ دوا استعمال کیا یا ایسی دوا جس میں خوشبو غالب ہو اور اسے پکایا نہ گیا ہو، جیسا کہ پیچھے گزر چکا ۔
ارشاد الساری ( ص ۳۱۸) میں ہے:’’واما ان یخلط بمایستعمل فی البدن کالاشنان ونحوہ فحکمہ مثل حکم خلطہ بمشروب اھیعنی اگر خوشبو اس چیز کے ساتھ ملے جو بدن میں استعمال کی جاتی ہو، جیسے اشنان وغیرہ، تو اس کا حکم مشروب میں خوشبو کے ملنے کی طرح ہے۔‘‘
امام زیلعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نےتبیین الحقائق(ج۲، ص ۵۳ ،مطبوعہ مدینۃ الاولیاء ملتان) میں واضح صراحت کی کہ جس طرح طبخ (پکائی) کا عمل ہونے نہ ہونے کے اعتبار سے کھانے کی تقسیم ہے، یہی حکم مشروبات میں بھی ہے چنانچہ فرمایا :’’لواکل زعفرانا مخلوطا بطعام اوطیب آخر ولم تمسہ النار یلزمہ دم وان مستہ فلا