امام اہلسنت ، مجدد دین و ملت، پروانۂ شمع رسالت، اعلیٰ حضرت احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن نے خمیرہ تمباکو کا ایسا حقہ پینا جائز قرار دیا ہے کہ جس میں سنبل اور مشک کی خوشبو کو ملایا گیا ہو اور حکم جواز کی علت ، آگ کے عمل کو قرار دیا، حالانکہ خمیرہ نہ تو کھایا جاتا ہے اورنہ ہی حقیقۃً پیا جاتا ہے، اس دھویں پر مجازاً پینے کا اطلاق ہوتا ہے۔
چنانچہ اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت جَدُّالْمُمتارعلٰی رَدِّالمحتار(ج ۲، ص ۲۴۰ مطبوعہ رضا اکیڈمی بمبئی) میں فرماتے ہیں :یستفاد منہ حکم خمیرۃ التتن ألملقی فیھا سنبل الطیب والمسک ونحوھما فان الخمیرۃ لا توکل ولا تشرب لاھی ولاجزء منھا بل تؤثر فیھا النارفتحلیھا دخانا، فتنقلب حقیقتھا،وقلب العین مغیرللحکم فھولم یاکل طیباولم یشربہ وانما شرب دخانامطیبا فینبغی ان لاشیء علیہ غیرالکراھۃ ان وجدت الرائحۃ ثم الکراھۃ حیث اطلقت للتحریم فیلزم التأثیم فیما یظھر بل لعل الاظھر ان ھذا لعمل النار یلتحق بالمطبوخ وقد علم من الشرح ان لا شیء فیہ ولاکراھۃ والطیب الممزوج فی الخمیرۃ عمل فیہ النار فینبغی ان لاحکم فیھا للطیب اصلا،ملخصا اھیعنی اس سے خمیرہ تمباکو کا حکم مستفاد ( حاصل) ہوتا ہے کہ جس میں سنبل اور مشک اور انکی مثل دیگر خوشبویات ڈالی جاتی ہیں۔ کیونکہ خمیرہ نہ تو کھایا جاتا ہے اور نہ ہی پیا جاتا ہے، نہ اس کی ذات اور نہ ہی اس کا کوئی جز، بلکہ اس میں آگ اثر کرتی ہے اور اسے دھواں بنادیتی ہے۔ لہٰذا اس کی حقیقت تبدیل ہوجاتی ہے اور قلبِ ماہیت حکم کو بدل دیتی ہے، لہٰذا حقہ پینے والے نے ، نہ تو خوشبو کھائی اور نہ ہی اسے پیا ، اس نے تو خوشبو دار دھواں پیا ہے، تو مناسب ہے کہ اس پر کوئی کفارہ نہ ہو۔ لیکن اگر خوشبو