Brailvi Books

احرام اور خوشبودار صابن
16 - 30
گیا ، اس پر ایک اِشکال وارد ہوتا ہے، جس کا دور کرلینا مناسب معلوم ہوتا ہے۔
اشکال:آپ نے خوشبو دار صابن جب کہ اس کی خوشبو کو پکالیا گیا ہو کے جواز کا حکم دیا، حالانکہ فقہاء نے صابن یا اس کی مِثل میں خوشبو شامل ہونے والی اشیاء کے استعمال پر کفارے کا حکم لگایا۔
علامہ شامی قُدِّسَ سِرُّہُ السَّامِی نے ردالمحتار( ج ۳، ص ۵۷۷) میں ،نیزفتاویٰ عالمگیری (ج ۱، ص ۲۴۱) میں اشنان( ایک خوشبودار بوٹی جو صابن کی جگہ استعمال کی جاتی تھی) کے بارے میں فرمایا کہ ’’ اگر اَشنان میں خوشبو ملی ہو اور محرم نے اسے استعمال کیا، تو اگر دیکھنے والا کہے کہ یہ اشنان ہے، تو اس پر ’’ صدقہ ‘‘ ہوگا اور اگر وہ اسے خوشبو قرار دے تو ’’دم‘‘ ہوگا۔‘‘ اس حکم میں آگ پر پکانے یا نہ پکانے کی کوئی قید نہیں لگائی۔
عالمگیری کی عبارت یہ ہے :’’ لو غسل المحرم باشنان فیہ طیب فان کان من راہ سماہ اشناناکان علیہ الصدقۃ  وان کان سماہ طیباکان علیہ الدم کذا فی فتاویٰ قاضیخان۔‘‘ترجمہ حسبِ سابق ہے۔
جواب: اس عبارت میں اگرچہ عملِ نار ہونے یا نہ ہونے کی قید نہیں ، لیکن ماقبل میں جب فقہاء نے طعام مطبوخ ( پکے ہوئے) کا حکم بیان کردیا، تو اب یہ مسئلہ بھی اسی پر محمول ہونا چاہیے کہ آگ نے جس طرح کھانے میں تغیر لا کر خوشبو کے حکم کو اصلاً ساقط کردیا، صابون یا اس کی مثل اشیاء میں بھی وہ یہی عمل کرے گی۔ لہٰذا اعتبار آگ کے عمل کا ہے، اس میں یہ ضروری نہیں کہ وہ شئے ماکولات میں سے ہی ہو، مشروبات اور دیگر اشیاء میں بھی یہ حکم جاری ہوگا۔