Brailvi Books

احرام اور خوشبودار صابن
15 - 30
ارشاد الساری ( ص ۳۱۷) میں ہے :الفرق بین الغالب وغیرہ ان وجد من المخالط رائحۃ الطیب کما قبل الخلط وحس الذوق السلیم بطعمہ فیہ حسا ظاہرا فھو غالب والا فھومغلوبیعنی غالب و مغلوب میں فرق یہ ہے کہ اگر مخالَط میں خَلط( ملنے)سے پہلے والی خوشبو کی مہک پائی جائے اور ذوقِ سلیم رکھنے والا ظاہری حس کے ساتھ اس کے ذائقے کو محسوس کرے، تو خوشبو غالب ہے، ورنہ مغلوب اھ۔یہ عبارت علامہ ابن نجیم مصری  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی   نے بھی البحر الرائق ( ج ۳، ص ۶ ) میں نقل فرمائی۔  واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
اب اصل سوالات کی طرف چلتے ہیں :
(۱)خوشبو دار صابن 
خوشبو دار صابن میں معلومات کے مطابق دو طریقے اختیار کئے جاتے ہیں :
(۱) آگ میں پکاتے وقت خوشبو ڈالی جاتی ہے۔
(۲) صابن کے آمیزے کو گرم کیا جاتا ہے اور پھر حرارت کم کرکے اس کو چالیس ڈگری پر لا کر خوشبو ملائی جاتی ہے۔
پہلی صورت
پہلی صورت میں تو ماسبق( گزشتہ) کلام کی روشنی میں حکم واضح ہے کہ جب خوشبو ڈالنے کے بعد آگ کا عمل کرلیا گیا ، تو خوشبو کا اعتبار ساقط ہوجاتا ہے، اور بغیر کسی کراہیت کے اس کا استعمال جائز ہوگا۔لہٰذا حکم جواز دیا جائے گا۔جبکہ دوسری صورت میں بھی حکم جواز ہی مناسب ہے۔ تفصیل آگے آرہی ہے۔ پہلے جو حکم جواز بیان کیا