لیکن ساتھ میں مہک کا وجود بھی ضروری ہے، حتّٰی کہ اگر اس کی بو ختم ہوجائے تو اس کا اعتبار جاتا رہا۔صدر الشریعہ مولانا امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی اور امام اہلسنت اعلیٰ حضرت احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کے کلمات سے یہی ظاہر ہے۔ چنانچہ فتاویٰ رضویہ ( ج ۴، ص ۶۸۹ ) میں ہے :’’ اگر مشک وغیرہ خوشبو اتنی کم پڑی کہ خوشبو نہ دے یا مدت گزرنے سے اُتر گئی کہ اب خوشبو جاتی رہی تو کراہت بھی نہیں۔‘‘
بہارِ شریعت ( ص ۳۲ حصہ ششم ،مطبوعہ مرکزالاولیاء لاہور) میں ہے:’’جس کھانے کے پکنے میں مشک وغیرہ پڑے ہوں اگرچہ خوشبو دیں یا بے پکائے جس میں کوئی خوشبو ڈالی اور وہ بو نہیں دیتی اس کا کھانا پینا( جائز ہے)۔‘‘اسی طرح (ص ۸۶) پر فرمایا :’’ کھانے میں پکتے وقت خوشبو پڑی یا فنا ہوگئی تو کچھ نہیں ورنہ اگر خوشبو کے اجزاء زیادہ ہوں تو وہ خالص خوشبو کے حکم میں ہے اور کھانا زیادہ ہو تو کفارہ کچھ نہیں مگر خوشبو آتی ہو تو مکروہ ہے۔‘‘حاصل یہ ہوا کہ اجزاء کی کثرت کا اعتبار جب ہے کہ مہک بھی موجود ہو، ورنہ اجزاء کی کثرت کا بھی اعتبار نہیں۔
نیز علامہ حلبی اور شیخ ابن ھمامرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہمَا کے اقوال میں تطبیق ممکن ہے کہ اِختلاط سے پہلے جو خوشبو کی مہک تھی ، اختلاط کے بعد بھی اسی مہک کا پایا جانا عموماً اس وقت ہی ہوگا کہ جب خوشبو کے اجزاء کثرت سے ہوں ، ورنہ اس مہک میں تبدیلی آجائے گی اور یہ تبدیل شدہ مہک اب کھانے کی کہلائے گی، نہ کہ خوشبو کی۔ اور یہی تبدیل شدہ مہک، دراصل خوشبو کا فنا ہوجانا ہے کہ درحقیقت اب یہ وہ مہک نہیں ، جو خوشبو کی تھی۔ مہک کی تبدیلی ہوجانا، ذوقِ سلیم رکھنے والا شخص باآسانی معلوم کرسکتا ہے۔