Brailvi Books

احرام اور خوشبودار صابن
13 - 30
اس کا ذائقہ  ۱ھ۔
علامہ ابن عابدین شامی قُدِّسَ سِرُّۃُ السَّامِی ردالمحتار( ج ۳، ص ۵۷۶) میں فرماتے ہیں :والظاہر انہ ان وجد من المخالط رائحۃ الطیب کما قبل الخلط فھوغالب والا فمغلوبیعنی ظاہر یہ ہے کہ اگر مخالط ( ملائی گئی شئے) میں خوشبو کی مہک ویسی پائی جیسی ملنے سے پہلے تھی ، تو خوشبو غالب ہے، ورنہ مغلوب۔
علامہ شامی قُدِّسَ سِرُّۃُ السَّامِی نے یہ بات علامہ ابن امیر حاج حلبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیکے حوالے سے نقل کی لیکن البحرالرائق میں اس عبارت کے تحت علامہ شامی قُدِّسَ سِرُّۃُ السَّامِی  مِنحَۃُ الخالقمیں فرماتے ہیں :ان ھذا الفرق ینافیہ ما قدمناہ عن الفتح من انہ اذاکان الطیب غالب یجب الجزاء وان لم تظھررائحتہ فانہ یقتضی ان المناط کثرۃ الاجزاء لاوجود الرائحۃ،تأملیعنی یہ فرق اس کے منافی( نفی کرنے والا )ہے جو ہم نے فتح القدیر کے حوالے سے پہلے ذکر کیا کہ ’’ اگر خوشبو غالب ہے، تو جزاء واجب ہوگی اگرچہ مہک ظاہر نہ ہو۔‘‘ کیونکہ یہ قول اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ مدار کثرت اجزاء پر ہے نہ کہ وجود پر ، غور کرلیجئے۔(منحۃ الخالق علی ھامش البحر الرائق ج ۳، ص ۶)
اسی طرح ردالمحتار ( ج ۳ ص ۵۷۷) میں فرمایا :قلتُ لکن قول الفتح المارّ فی غیرالمطبوخ وان لم تظھر رائحتہ یفید اعتبارالغلبۃ بالاجزاء  لا بالرائحۃ وقد صرح بہ فی شرح اللبابیعنی میں کہتا ہوں :’’ لیکن فتح القدیر کابغیر پکائی ہوئی چیز کے بارے میں جو قول گزرا کہ اگرچہ مہک ظاہر نہ ہو، یہ اجزاء کے اعتبار سے غلبہ کا فائدہ دیتا ہے نہ کہ مہک کے ساتھ اور شرح اللباب میں اسی کی صراحت کی۔‘‘
قابل توجہ امر ہے کہ خوشبو کی کثرت میں اعتبار اگرچہ اجزاء کی کثرت کا ہے